ایران کا دوٹوک مؤقف: دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں

0
12
ایران کا دوٹوک مؤقف: دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں کے ماحول میں کسی بھی قسم کے مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں قالیباف نے کہا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران ایران نے خود کو ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار کر لیا ہے اور کسی بھی دباؤ میں آنے والا نہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ امریکا کو غیر حقیقت پسندانہ مطالبات ترک کرنا ہوں گے اور ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق، مسئلے کا واحد حل سفارتکاری ہے، نہ کہ جنگ۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی خبردار کیا کہ اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو ایران سخت ردعمل دے گا۔ انہوں نے امریکی تجاویز کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے جوہری معاملات پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے امریکا کو پہلے بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی، بصورت دیگر بات چیت ممکن نہیں ہوگی۔

Leave a reply