ایران کا امریکا کو انتباہ: آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی

0
6
ایران کا امریکا کو انتباہ: آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے، جس میں دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک گھنٹے میں کئی ایسے دعوے کیے جو حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے پیغام میں قالیباف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی مذاکرات میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے کھلے یا بند ہونے کا فیصلہ عملی میدان میں ہوگا، نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ان کے مطابق میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنا جنگ کا حصہ ضرور ہوتا ہے، لیکن ایرانی عوام ایسے حربوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات سے متعلق مستند معلومات درکار ہوں تو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیانات کو دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی بندش کا عندیہ دیا ہے۔ قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ایران اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ہی اجازت دی جائے گی۔
یہ صورتحال اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی جس میں ایران نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے باقی عرصے کے لیے آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی رہے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، مربوط بحری راستوں کے تحت جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رکھی جائے گی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ مکمل ہونے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے اور معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اور کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

Leave a reply