ایران نے بحرین کو سخت ردعمل کی وارننگ دے دی

ایران نے بحرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے خلاف مزید اقدامات یا اشتعال انگیزی کی گئی تو تہران پہلے سے زیادہ سخت ردعمل دینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین کو چاہیے کہ وہ ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں قائم امریکی فوجی اڈے اس کی سرزمین کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
دوسری جانب بحرین اور دیگر خلیجی ممالک نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائیاں علاقائی استحکام اور خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بحرینی حکومت نے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق بحرین میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد افراد کو ایران سے مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا ہے، تاہم ایران نے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف حملے جاری رہے تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ممکنہ ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔









