ایرانی وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ اسپیکر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، تہران کی تصدیق

0
16
ایرانی وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ اسپیکر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، تہران کی تصدیق

اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی روابط میں مزید پیش رفت ہوئی ہے۔ تہران نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ دونوں رہنماؤں کو پاکستان کی جانب سے دورے کی باضابطہ دعوت موصول ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف مناسب وقت پر پاکستان کا دورہ کریں گے، تاہم دورے کی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے باہمی دورے اور مختلف سطحوں پر سفارتی رابطے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔

ایرانی ترجمان کے مطابق پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد نے جنگ بندی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ فریقین کے درمیان ایک فریم ورک تیار کرنے میں بھی مدد فراہم کی تھی۔

تاہم بعد میں یہ پیش رفت برقرار نہ رہ سکی اور امریکا و ایران کے درمیان دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملے روکنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری رہیں۔

اسماعیل بقائی نے ایران کے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیوں کے باعث تہران مذاکرات کی بحالی کو فی الحال ممکن نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ معمول کے معاملات کے لیے جاری رہتا ہے۔

آبنائے ہرمز پر عمان سے مذاکرات

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس وقت تہران کی توجہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق معاملات پر مذاکرات پر مرکوز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بحری راستہ بنانے کی ضمانت دینا ممکن نہیں، خصوصاً جب تک ناکہ بندی اور مفاہمتی انتظامات سے متعلق بعض معاملات حل نہیں ہوتے۔

بحری جہازوں سے فیس وصول کیے جانے کے سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ بات چیت میں ماحولیاتی معاملات اور بحری خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار سمیت مختلف امور زیر بحث آئے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی قسم کی بحری خدمات فراہم کرنے کی صورت میں اس کے عوض معاوضہ وصول کرنا معمول کی بات ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر ایرانی ردعمل

ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کے معاہدے پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔ انہوں نے اسے خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے ممالک کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کی علامت قرار دیا۔

ایرانی ترجمان کے مطابق خطے کے متعدد ممالک اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ انہیں اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

تہران کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ ایران خطے میں ایک طرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملات پر مذاکرات کر رہا ہے اور دوسری جانب امریکا کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات کے حوالے سے اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

Leave a reply