ایرانی قیادت میں اندرونی اختلافات، کئی دھڑوں میں تقسیم کا دعویٰ

0
7
ایرانی قیادت میں اندرونی اختلافات، کئی دھڑوں میں تقسیم کا دعویٰ

امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ Iran کے ساتھ ٹیلی فون پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم بات چیت میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو رہی اور وہ تہران کی حالیہ تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کے پاس اب محدود آپشنز رہ گئے ہیں، لیکن انہیں یقین نہیں کہ دونوں ممالک کسی حتمی ڈیل تک پہنچ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں کیونکہ اس سے عالمی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہے اور مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کے باعث فیصلوں میں یکسوئی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو کئی داخلی مسائل کا سامنا ہے اور اسے سنجیدہ اور قابلِ قبول تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کے فضائی اور بحری وسائل کمزور ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت میں واضح سمت کا فقدان ہے۔
Strait of Hormuz کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ گزرگاہ اس وقت بند ہے، تاہم ایک یا دو دن میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس دو راستے ہیں: یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا سخت کارروائی کی جائے، اور وہ صرف ایک “اچھے معاہدے” کو قبول کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت سے مطمئن نہیں کیونکہ ایران ایسے مطالبات کر رہا ہے جنہیں قبول کرنا ممکن نہیں۔
عالمی معاملات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ Italy اور Spain کی پالیسیوں سے بھی خوش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، اور وہ ممکنہ طور پر G7 Summit میں شرکت کے لیے France جا سکتے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ Shehbaz Sharif اور Asim Munir کا احترام کرتے ہیں اور پاکستان کو ایک اہم ملک سمجھتے ہیں۔

Leave a reply