
کمپنی کے مطابق فیوژن سے پیدا ہونے والے نیوٹرانز کی مدد سے سونا بنایا جا سکتا ہے، طبی شعبے میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ
امریکا میں نیوکلیئر فیوژن ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنی میراتھون فیوژن نے پارے کو سونے میں تبدیل کرنے کے تجربے میں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا طریقہ کار روایتی جوہری تجربات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، تاہم تجربے میں تیار ہونے والے سونے کی مقدار تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
سان فرانسسکو میں قائم کمپنی کے مطابق اس عمل میں نیوکلیئر فیوژن کے دوران پیدا ہونے والے نیوٹرانز استعمال کیے جاتے ہیں، جن کی مدد سے پارے کے ایٹمی مرکزے میں تبدیلی لا کر سونے کے ایٹم حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پارے سے سونا کیسے بنایا جاتا ہے؟
یہ عمل عام کیمیائی ردعمل سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں عنصر کی کیمیائی ساخت کے بجائے اس کے ایٹمی مرکزے کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اسے نیوکلیئر ٹرانسمیوٹیشن کہا جاتا ہے۔
کمپنی کی بیان کردہ تکنیک میں پارے کے آئسو ٹوپ مرکری-198 کو تیز رفتار نیوٹرانز کے ذریعے مرکری-197 میں تبدیل کیاجاتاہے۔ یہ غیرمستحکم آئسو ٹوپ الیکٹران کیپچرکے عمل سے گزرکرسونے کے مستحکم آئسو ٹوپ گولڈ-197 میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
تاہم اس طریقے کو بڑے پیمانے پر قابلِ عمل بنانے کے لیے تابکار ضمنی مصنوعات، توانائی کی لاگت اور سونے کی حتمی پیداوار جیسے عوامل پر قابو پانا ضروری ہوگا۔
سرن کے سابقہ تجربے سے موازنہ
یورپی تنظیم برائے نیوکلیئر ریسرچ (سرن) کے سائنس دانوں نے بھی ذرات کے تصادم کے ذریعے سونے کے ایٹمی مرکزے پیدا کیے تھے۔ مئی 2025 میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق لارج ہیڈرون کولائیڈر میں کیے گئے تجربات کے دوران سیسے کے ایٹمی مرکزوں سے سونے کے مرکزے وجود میں آئے۔
سرن کے ایلس تجربے کے تخمینے کے مطابق 2015 سے 2018 کے دوران ہونے والے تجربات میں تقریباً 86 ارب سونے کے مرکزے پیدا ہوئے، جن کا مجموعی وزن تقریباً 29 پیکوگرام تھا۔ یہ مرکزے انتہائی مختصر وقت کے لیے وجود میں آئے اور بعد میں مزید ذرات میں تبدیل ہو گئے۔
میراتھون فیوژن نے اپنے طریقہ کار کی پیداواری رفتار سرن کے ریکارڈ سے 10 گنا زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس موازنے کی آزادانہ سائنسی تصدیق اور تجربے کے مکمل نتائج سامنے آنا اہم ہوگا۔
طبی شعبے میں استعمال کی امید
کمپنی کا ہدف صرف سونے کی تیاری نہیں بلکہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو طبی شعبے میں بھی استعمال کرنا ہے۔ اس کے مطابق یہی ٹیکنالوجی کینسر کی تشخیص اور علاج میں کام آنے والے طبی آئسو ٹوپس کی تیاری کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر اس طریقے کی افادیت اور معاشی امکانات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ نیوکلیئر فیوژن ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمالات میں ایک نئی پیش رفت ہوگی۔ تاہم فی الحال اسے بڑے پیمانے پر سونا بنانے کا ثابت شدہ اور تجارتی طور پر قابلِ عمل طریقہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔









