امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول کا مستعفی ہونے کا فیصلہ، پینٹاگون میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

0
19
امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول کا مستعفی ہونے کا فیصلہ، پینٹاگون میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

واشنگٹن: امریکی محکمہ فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے ان کا استعفیٰ قبول کیا ہے یا نہیں۔

رپورٹس کے مطابق ڈین ڈرسکول اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے فوجی پالیسی، جدید جنگی ٹیکنالوجی اور فوج کی تنظیم نو سمیت مختلف معاملات پر اختلافات جاری تھے۔

ڈرسکول نے فروری 2025 میں سیکریٹری آف دی آرمی کا منصب سنبھالا تھا اور انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ان کے استعفے کی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پینٹاگون میں اعلیٰ سطح پر کئی اہم عہدیدار اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں یا انہیں عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈرسکول امریکی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کم لاگت مگر جدید ہتھیار تیزی سے حاصل کرنے کے حامی تھے۔ انہوں نے دفاعی شعبے کی بڑی کمپنیوں کے کردار پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ان کے اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو اپریل میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ڈرسکول مبینہ طور پر اس فیصلے سے ناخوش تھے اور بعد میں دونوں حکام کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے۔

اس کے بعد جون میں یورپ میں تعینات امریکی فوج کے ایک اہم کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ متعدد اعلیٰ فوجی افسران کی ترقی کے معاملات بھی روک دیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرسکول نے فوج میں اصلاحات اور جنگی تیاری کے حوالے سے اپنے تحفظات انتظامیہ کے سامنے رکھے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض اہم فوجی افسران کو ہٹائے جانے سے فوج کو جدید بنانے کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ڈرسکول کی خدمات کو سراہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے مطابق ڈرسکول نے صدر ٹرمپ کے دفاعی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کیا اور فوج کی جنگی تیاری پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ اہم فوجی کارروائیوں میں قیادت فراہم کی۔

ڈرسکول کو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے ماسکو اور کیف سے متعلق مذاکرات میں امریکی نمائندے کے طور پر کردار ادا کیا، جسے امریکی آرمی سیکریٹری کے لیے ایک غیر معمولی ذمہ داری قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی فوج کے نائب انڈر سیکریٹری ڈیو فٹزجیرالڈ کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ عہدے سے مستعفی ہونے والے ہیں۔ وہ فوج میں جدت اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق معاملات دیکھ رہے تھے۔

امریکی کانگریس کے ریپبلکن رکن پیٹ ہیریگن نے ڈرسکول کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایسے ادارے میں فوری اصلاحات کی ضرورت اجاگر کی جہاں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔

ڈرسکول کے ممکنہ استعفے سے امریکی محکمہ دفاع میں جاری اندرونی اختلافات اور فوجی پالیسی پر بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔

Leave a reply