امریکا اور اسرائیل نے ایران کے اعلیٰ حکام کو عارضی طور پر ہٹ لسٹ سے نکال دیا

امریکی حکام نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو عارضی طور پر اپنی ہٹ لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ سفارتی بات چیت کے لیے موقع فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عارضی چھوٹ صرف چار سے پانچ دن کے لیے ہے تاکہ امریکی حکومت تہران سے رابطے کے امکانات کا جائزہ لے سکے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے موقف میں اہم اختلافات موجود ہیں، جس کی وجہ سے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے۔ اس امید پر امریکا نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کو مؤخر کر دیا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اب تک باضابطہ مذاکرات کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ ابھی صرف امریکا کی طرف سے بات چیت کی خواہش کا پیغام موصول ہوا ہے۔
حالیہ اقدامات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔








