اسلام آباد ہائیکورٹ کا آوارہ کتوں سے متعلق اہم فیصلہ

0
9
اسلام آباد ہائیکورٹ کا آوارہ کتوں سے متعلق اہم فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کو زہر دینے، گولی مارنے یا کسی بھی طریقے سے تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ آوارہ کتوں کی آبادی کو قابو کرنے کے لیے جدید اور انسانی طریقۂ کار اپنایا جائے۔

تفصیلی 24 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کے حل کے لیے “ٹریپ، نیوٹرنگ (نس بندی) اور ویکسینیشن” جیسے طریقے اختیار کیے جائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف ویٹرنری ماہر ہی کسی کتے کے شدید بیمار یا خطرناک ہونے کی تصدیق کے بعد طبی طریقے سے کارروائی کر سکتا ہے۔

عدالت نے متعلقہ اداروں بشمول کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ آوارہ کتوں سے متعلق پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی کتوں کے کاٹنے کے واقعات اور ویکسینیشن کا مکمل ڈیٹا بیس بنانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

فیصلے میں آوارہ جانوروں پر مبینہ تشدد اور ان کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کے لیے کوئی واضح یا قانونی جواز پیش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے کہا کہ جانور بھی حساس جاندار ہیں اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے مزید کہا کہ پاکستان میں آوارہ جانوروں کے انتظام کے لیے کوئی یکساں قومی نظام موجود نہیں، جبکہ موجودہ قوانین بھی پرانے اور مؤثر اصلاحات کے متقاضی ہیں۔ جانوروں پر ظلم کی روک تھام سے متعلق موجودہ قانون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

سماعت کے دوران مختلف ممالک بشمول ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا اور بھارت کے ماڈلز کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جن میں آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کے مختلف طریقے اپنائے گئے ہیں۔

دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک کتے کی نس بندی اور ویکسینیشن پر تقریباً 19 ہزار روپے لاگت آتی ہے۔ عدالت نے ترلائی میں قائم آوارہ کتوں کے کنٹرول سینٹر کے ریکارڈ اور طریقہ کار کو مزید شفاف بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔

Leave a reply