
وزارت منصوبہ بندی کی جاری کردہ ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح معمولی اضافے کے ساتھ 5.3 فیصد سے بڑھ کر 5.7 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے میں ملکی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی اور مجموعی طور پر 1.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس درآمدات میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا، جس سے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی منفی رجحان سامنے آیا ہے، جس میں 33.4 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
محصولات کے شعبے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بہتری دکھائی اور اس دوران 9306 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 8453 ارب روپے کے مقابلے میں 10.1 فیصد زیادہ ہے۔
ترسیلات زر میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جولائی سے مارچ کے دوران تقریباً 30.3 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو گزشتہ سال کے 28 ارب ڈالر کے مقابلے میں اضافہ ہے۔
مجموعی طور پر رپورٹ کے مطابق برآمدات میں کمی، درآمدات اور مہنگائی میں اضافہ جبکہ ترسیلات زر اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری کا رجحان سامنے آیا ہے، تاہم غیر ملکی سرمایہ کاری میں واضح کمی معیشت کے لیے ایک تشویشناک پہلو ہے۔









