اذان کی آواز نے راستہ بدل دیا: اٹلی کے نومسلم محمد لوقا حج کی سعادت سے سرشار

0
7

مکہ مکرمہ: حج کے روح پرور اجتماع میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں فرزندانِ اسلام کے درمیان اٹلی سے تعلق رکھنے والے نومسلم محمد لوقا بھی موجود ہیں، جو اس وقت منیٰ میں دیگر عازمینِ حج کے ساتھ مقدس مناسک ادا کر رہے ہیں۔
محمد لوقا کی اسلام سے وابستگی کی داستان غیر معمولی روحانی سفر کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے پہلی مرتبہ 12 برس کی عمر میں ٹی وی پر اذان کی آواز سنی، جس نے ان کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ اذان کی دلنشیں پکار نے انہیں اسلام کو سمجھنے اور اس کے قریب آنے پر آمادہ کیا۔
اس ابتدائی اثر کے بعد محمد لوقا نے اسلام اور دیگر مذاہب کا مطالعہ شروع کیا۔ کئی برس تک تحقیق، غور و فکر اور سچائی کی تلاش کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
محمد لوقا کا کہنا ہے کہ اسلام نے انہیں زندگی کا واضح مقصد اور روحانی سکون عطا کیا۔ ان کے بقول، دینِ اسلام اپنانے کے بعد ان کی سوچ، طرزِ زندگی اور زندگی و موت کے بارے میں تصور میں نمایاں تبدیلی آئی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے انہیں عزت، اعتماد اور ذہنی سکون فراہم کیا، جبکہ ماضی کی بے یقینی اور الجھنوں سے بھی نجات ملی۔ وہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
سعودی عرب میں حج انتظامات پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے محمد لوقا نے حجاج کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات اور احترام کو قابلِ ستائش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے بہترین انتظامات نے ان کے دل میں سعودی عرب کے لیے مزید احترام پیدا کیا ہے۔
محمد لوقا نے کہا کہ حج کے روحانی ماحول، حرمین شریفین سے بلند ہونے والی اذانوں اور ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی صداؤں نے ان کے اندر بندگی اور عقیدت کے جذبات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

Leave a reply