“اتنے سارے پیسوں کا آخر کیا کرنا ہے؟” تمنا بھاٹیا کی منفرد سوچ

0
25
"اتنے سارے پیسوں کا آخر کیا کرنا ہے؟" تمنا بھاٹیا کی منفرد سوچ

بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار اور مالی کامیابی کے سفر سے لطف اندوز ہو رہی ہیں، تاہم ان کی ترجیح صرف دولت جمع کرنا نہیں بلکہ اپنی ایک منفرد شناخت اور دیرپا اثر قائم کرنا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں تمنا بھاٹیا نے کہا کہ ان کے نزدیک دولت کا اصل مفہوم اس کے حصول کے عمل میں پوشیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان اپنی کمائی ہوئی دولت کو ہمیشہ اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا، اس لیے وہ دولت، قدر اور ذاتی شناخت کی تعمیر کے سفر کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک حد کے بعد دولت کی افادیت محدود ہو جاتی ہے، اس لیے ان کی خواہش ہے کہ وہ ایسے منصوبوں اور کاموں کا حصہ بنیں جو دیرپا نتائج اور مثبت اثرات چھوڑیں۔
اداکارہ کے مطابق جب کسی بڑے اور بامعنی مقصد کے لیے کام کیا جائے تو مالی کامیابی خود بخود حاصل ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی اس بات سے ملتی ہے کہ ان کا کام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے اور ان کے لیے مفید ثابت ہو۔
تمنا بھاٹیا نے سماجی خدمت کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کی مدد کرنا کسی ایک دن یا موقع تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ عمل کاروباری سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ مسلسل جاری رہنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تمنا بھاٹیا فلمی دنیا میں ایک طویل اور کامیاب سفر طے کر چکی ہیں اور درجنوں فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے زیورات کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے اور اپنا نیا جیولری برانڈ متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد روزمرہ زندگی میں لگژری طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی وہ اپنے کام اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز رکھیں گی، جبکہ دولت کو صرف ایک ذریعہ سمجھتی ہیں، منزل نہیں۔

Leave a reply