آبنائے ہرمز: ایران کی وارننگ، بحری راستوں پر نئی کشیدگی

0
6
آبنائے ہرمز: ایران کی وارننگ، بحری راستوں پر نئی کشیدگی

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ تہران کی منظوری اور رابطے کے بغیر کسی بھی متبادل سمندری راستے کا استعمال قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام کے مطابق جہازوں کو صرف وہی راستے اختیار کرنے چاہییں جو ان کی جانب سے مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ ان راستوں پر سفر کرنے والے جہازوں کے لیے مخصوص مواصلاتی چینل پر رابطہ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ طے شدہ روٹ سے انحراف خطرناک ہو سکتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ سمندری ٹریفک کو منظم رکھنے کے لیے ان ہدایات پر عمل ضروری ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض سمندری نگرانی کے اداروں اور گروپس نے جہازوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ جنوبی سمندری راستے کو استعمال کریں، جسے نسبتاً محفوظ اور بارودی سرنگوں سے پاک بتایا گیا ہے۔

بین الاقوامی اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم یہ شرح اب بھی معمول کے مقابلے میں کم ہے۔ جہازران کمپنیوں کی جانب سے احتیاطی رویہ اپنایا جا رہا ہے اور مختلف متبادل راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے ایران کے متعلقہ اداروں پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فیس یا ٹیکس وصولی قبول نہیں کی جائے گی۔ امریکی حکام نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔

خطے کے بعض ممالک نے تجارتی بحری راستوں کی حفاظت کے لیے نئے متبادل روٹس کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے سمندری نقل و حمل مزید محفوظ ہو سکے گی۔

موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں بحری تجارت سے وابستہ ادارے محتاط ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a reply