آئس لینڈ میں مچھروں کی آمد، آرکٹک میں تیزی سے بدلتے ماحول کی خطرناک علامت

0
15
آئس لینڈ میں مچھروں کی آمد، آرکٹک میں تیزی سے بدلتے ماحول کی خطرناک علامت

آئس لینڈ کئی نسلوں تک دنیا کا واحد آرکٹک ملک سمجھا جاتا تھا جہاں مچھر موجود نہیں تھے، مگر اب سائنس دانوں نے دارالحکومت ریکیاوک کے شمالی علاقوں میں مچھروں کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک سائنسی دریافت نہیں بلکہ آرکٹک میں تیزی سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا واضح اشارہ ہے۔

تحقیقی جریدے “سائنس” میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق آئس لینڈ کی ٹھنڈی سمندری آب و ہوا اور بار بار جمنے اور پگھلنے والے موسم کو مچھروں کی بقا کے لیے ناموزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت نے حالات بدلنا شروع کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آرکٹک دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ برف جلد پگھل رہی ہے، گرمیوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اور انسانی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث نئے کیڑے مکوڑے اور جانور ان علاقوں تک پہنچ رہے ہیں جہاں پہلے ان کا وجود ممکن نہیں تھا۔

تحقیق کے مطابق بحری راستوں میں اضافہ، سیاحت، فوجی سرگرمیاں اور نئے تعمیراتی منصوبے بھی مختلف اقسام کے جانداروں کو دور دراز آرکٹک علاقوں تک منتقل کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مسئلہ صرف مچھروں تک محدود نہیں بلکہ آرتھروپوڈز کہلانے والے جانداروں کا پورا نظام متاثر ہو رہا ہے، جن میں کیڑے مکوڑے، مکڑیاں اور دیگر چھوٹے جاندار شامل ہیں۔ یہ جاندار آرکٹک کے ماحول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ پودوں کی افزائش، غذائی اجزا کی گردش، نقصان دہ کیڑوں کے کنٹرول اور پرندوں و جانوروں کی خوراک کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ جاندار ماحولیاتی تبدیلیوں پر بہت تیزی سے ردعمل دیتے ہیں، اس لیے انہیں ماحول کی صحت کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پورے آرکٹک خطے میں ان کی نگرانی کے لیے کوئی مشترکہ نظام موجود نہیں، جس کے باعث تبدیلیوں کی رفتار کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آرکٹک کے ساحلی پرندے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ کیڑوں کے پیدا ہونے کا وقت اب ان کے بچوں کی افزائش کے موسم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح ہرن اور کیریبو جیسے جانور خون چوسنے والے کیڑوں کے بڑھتے حملوں سے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث وہ خوراک حاصل کرنے کے بجائے خود کو بچانے میں زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں۔

سائنس دانوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مچھروں کی نئی اقسام کی آمد سے ایسے امراض پھیل سکتے ہیں جو پہلے آرکٹک میں موجود نہیں تھے۔ دوسری جانب بڑھتی جہاز رانی اور سیاحت کے باعث یہ حشرات نئے علاقوں تک منتقل ہو رہے ہیں۔

تحقیق کے مطابق بعض کیڑوں کی تعداد میں اضافے سے ٹنڈرا کے پودے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کی مستقل جمی ہوئی تہہ، یعنی پرما فراسٹ، تیزی سے پگھل سکتی ہے۔ اس عمل سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ٹنڈرا ان انتہائی سرد علاقوں کو کہا جاتا ہے جہاں درخت بہت کم اگتے ہیں کیونکہ زمین سال کے زیادہ حصے میں جمی رہتی ہے۔ یہاں گھاس، کائی، جھاڑیاں اور لائیکن جیسے پودے پائے جاتے ہیں جو زمین کو ٹھنڈا رکھنے اور نمی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ پودے نقصان کا شکار ہوں تو زمین زیادہ گرمی جذب کرنے لگتی ہے، جس سے پرما فراسٹ کے پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس لینڈ میں مچھروں کی موجودگی اس بات کی واضح علامت ہے کہ آرکٹک کا ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کی نگرانی، موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے اور مقامی و دیسی برادریوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق آئس لینڈ میں مچھروں کی آمد صرف ایک نئے کیڑے کی موجودگی نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آرکٹک اب تیزی سے بدل رہا ہے اور ان تبدیلیوں کو مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔

Leave a reply