ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کون تھا ؟

0
107

پاکستان کے آئین بننے کی پچاس سالہ تقریب سے بلاول بھٹو زرداری کا لاہور ہائیکورٹ جاوید اقبال آڈیٹوریم میں خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میں تمام وکلاء کا شکر گزار ہو ۔

انہوں نے کہا جاتا ہے کہ عدالت میں انصاف کے لیے آیا جاتا ہےلیکن آج تک اس لاہور ہائیکورٹ کو کرائم سین کے طور پر ہی دیکھا جاتا رہا ہےکیونکہ قاتل عامر ضیاء الحق تھا ، قاتل لاہور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ کے جج صاحبان تھے جنہوں نے قائد عوام بھٹو کو غیر قانونی سزا سنائی ۔

اتنے سالوں بعد قائد عوام بھٹو کو انصاف دیا جائے گاجج صاحبان اپنے جج صاحبان کے خون کے داغ دھوئیں گے ، آج کہ بعد کسی وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ وزیراعظم ملسم ن سے تعلق رکھے،پلیز پارٹی سے رکھے یا تحریک انصاف سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو

انہوں نے کہا کہ تب جب ظلم ہو رہا تھا تب بھٹو شہد ہو رہا تھا ، جب بھٹو نے پوری امت مسلمہ کو اکٹھا کیاپاکستان کو مسلم دنیا میں پہلا اکٹامک پاور بنایا ، قائد عوام سے جو لے کر جتنے بھی اس وقت او آئی سی لیڈران موجود تھے ان سب کو سازش کے تحت شہید کیا گیا ، ہم پاکستان کی تاریخ بھی درست کریں گےپاکستان کی عوام کو بتائے گے کہ بھٹو کا قاتل کون تھا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ایک حکم کے مطابق جوڈیشری کوئی فیصلہ دے کہ قائد عوام کو پھانسی کی سزا ہی سنا دےیہ عدالتی مثال یا فیصلہ بدترین داغ ہےابھی جب آپ نعرے لگا رہے تھے تو یہیں پر عمران خان کے نعرے لگ رہے تھے میں اس بات سے خوش ہوا کہ جمہوریت میں نفرت ختم ہو گی ، خان تو کہتا تھا کہ میں ان چوروں سے بات نہیں کرونگا

جب وہ کسی پر چوری کا الزام لگا رہے تھے تو تب خان صاحب شاید غلط ہی الزام لگا رہے تھے ، ایک دوسرے کو گالی دے کر سیاست کرنا کامیابی نہیں یہ شکست ہے ،
پاکستان میں نفرت، انتقام کی سیاست ایک مرتبہ پھر نظر آرہی ہے
یہ کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے جو انہوں نے واپس لائی ، ہمیں بھی اپنے دائرے اور انکو بھی اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ جب ہم نے یہ کہا تو جواب ملا مک مکا ، خان صاحب اس وقت جو سیاست کر رہے تھے وہ اپنے کارکنان میں نفرت پیدا کر رہے تھےلیکن جو سیاسی کارکن ہے میں انکی عزت کرتا ہوں ۔

بلاول بھٹو کے خطاب کے دوران انصاف لائرز فورم کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی گئی ، خان صاحب نے خود ایسی سیاست کی جس سے دشمنیاں پروان چڑھائی ، ہم یہیں کہتے ہیں کہ سیاست کریں اختلاف رائے رکھیں لیکن نفرتوں کے ساتھ نہیں ۔

Leave a reply