چند گھنٹوں کی خبر یا پورے شہر کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

چند گھنٹوں کی خبر یا پورے شہر کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

تحریر:نور فاطمہ

کراچی میں رضا میر کے قتل نے ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ سے متعلق بنیادی سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان، جس کے سامنے زندگی کے بے شمار امکانات موجود تھے، ایک ایسے واقعے کا شکار ہوگیا جس نے اس کے خاندان اور دوستوں کی زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑا۔
ایسے واقعات کو صرف پولیس کیس یا روزمرہ کے جرائم کے اعداد و شمار تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ہر قتل کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور مستقبل سے جڑی کئی امیدیں ہوتی ہیں۔ جب کسی گھر کا نوجوان اچانک واپس نہیں آتا تو اس خاندان کے لیے معمول کی زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں شہریوں کو روزگار، تعلیم اور کاروبار کے لیے روزانہ گھروں سے نکلنا پڑتا ہے۔ اگر عام آدمی سفر کے دوران اپنی جان اور مال کے بارے میں مسلسل خوف میں مبتلا رہے تو یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاستی کارکردگی اور سماجی انصاف کا سوال بن جاتا ہے۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ سڑکیں، عمارتیں، معاشی منصوبے اور ترقیاتی پروگرام اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن ان سب کا فائدہ اسی وقت محسوس ہوتا ہے جب شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔
بدقسمتی سے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے واقعات نے خوف کو شہری زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ موبائل فون یا موٹر سائیکل چھیننے جیسے جرائم بعض اوقات مزاحمت کی صورت میں جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ چند روز بعد خبر نئی خبروں میں دب جاتی ہے، مگر متاثرہ خاندان کے لیے یہ سانحہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ کیا شہری تحفظ سب کے لیے یکساں ہے؟ صاحبِ حیثیت افراد نجی سیکیورٹی، محفوظ رہائش اور دیگر وسائل کے ذریعے اپنے خطرات کم کرسکتے ہیں، مگر عام شہری کے پاس اکثر اپنی حفاظت کے لیے محدود ذرائع ہوتے ہیں۔ ریاستی تحفظ کا تصور اسی وقت مؤثر ہوسکتا ہے جب اس میں شہری کی مالی حیثیت، تعلقات یا سماجی مقام کی بنیاد پر فرق نہ ہو۔
رضا میر کے قتل کے معاملے میں صرف ملزمان کی گرفتاری کافی نہیں ہوگی۔ مؤثر انصاف کے لیے شفاف تفتیش، مضبوط قانونی کارروائی اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق سزا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی درکار ہیں جو مستقبل میں اسی نوعیت کے واقعات کو روکنے میں مدد دیں۔
پاکستان کے نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں۔ ان سے بہتر تعلیم، محنت اور قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کے بدلے انہیں ایسا ماحول بھی ملنا چاہیے جہاں وہ اپنے روزمرہ معمولات انجام دیتے ہوئے بنیادی تحفظ محسوس کرسکیں۔
رضا میر واپس نہیں آسکتا، لیکن اس کا واقعہ ایک اہم اجتماعی سوال ضرور چھوڑ گیا ہے: کیا ہمارے شہری اپنے ہی شہروں میں محفوظ ہیں؟
ترقی کو صرف معاشی اعداد، نئی سڑکوں یا بلند عمارتوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ ایک محفوظ شہری، مؤثر قانون نافذ کرنے والا نظام اور بلاامتیاز انصاف بھی ترقی کی بنیادی علامتیں ہیں۔ اگر ایک عام شہری اپنی جان کے بارے میں مطمئن نہیں تو ریاست اور معاشرے دونوں کو اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

Leave a reply