پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران: چیلنجز، وجوہات اور ممکنہ حل

پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران: چیلنجز، وجوہات اور ممکنہ حل

تحریر:محمد یونس

پاکستان میں پانی کی قلت ایک ایسا مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کے اثرات ملک کے تقریباً ہر بڑے شہر اور دیہی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع اور پانی کے غیر محتاط استعمال نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی کی سطح کئی علاقوں میں تقریباً 400 فٹ تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے نئے بور کروانے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ متعدد رہائشی علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ کئی شہری روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے نجی ٹینکروں پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

کراچی میں صورتحال کئی برسوں سے تشویشناک ہے۔ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں پانی کی فراہمی ناکافی سمجھی جاتی ہے۔ متعدد علاقوں میں پانی کی سپلائی مقررہ اوقات میں بھی نہیں پہنچتی، جس کے باعث شہری نجی ٹینکر سروسز سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ گرمی کے موسم میں طلب بڑھنے سے ٹینکروں کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندان زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

لاہور میں اگرچہ بیشتر علاقوں میں پائپ لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم ہر جگہ پینے کے معیار کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ اسی وجہ سے شہری واٹر فلٹر پلانٹس، گھریلو فلٹریشن سسٹمز یا بوتل بند پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کے مسلسل استعمال نے مستقبل کے لیے خدشات بڑھا دیے ہیں، اس لیے متبادل آبی وسائل پر توجہ دینا ضروری ہے۔

پشاور میں بھی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ شہری آبادی میں اضافہ، ٹیوب ویلز کا بے تحاشا استعمال اور بارش کے پانی کو محفوظ نہ کرنے کی وجہ سے آبی ذخائر پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

بلوچستان پانی کی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ کم بارش، طویل خشک سالی اور محدود آبی وسائل کے باعث کئی اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی شدید کمی ہے۔ کوئٹہ سمیت متعدد علاقوں میں شہری مہنگے داموں پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، جس سے عام خاندانوں کا ماہانہ بجٹ متاثر ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دستیاب پانی کا بڑا حصہ زراعت میں استعمال ہوتا ہے، لیکن آبپاشی کے روایتی طریقوں کی وجہ سے بڑی مقدار ضائع بھی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ شہروں میں پرانی اور خستہ حال پائپ لائنوں سے پانی کا ضیاع، غیر قانونی کنکشن، زیرِ زمین پانی کی غیر منظم نکاسی اور آبی ذخائر میں کمی بحران کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ بارشوں کے غیر متوازن نظام، شدید گرمی کی لہروں، گلیشیئرز کے پگھلنے کے انداز میں تبدیلی اور طویل خشک ادوار نے پانی کے قدرتی ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے محدود ہونے کی وجہ سے لاکھوں گیلن پانی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف نئے ڈیم تعمیر کرنا کافی نہیں، بلکہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، واٹر ری چارج سسٹمز کو فروغ دینے، جدید آبپاشی طریقوں کو اپنانے، پرانی واٹر سپلائی لائنوں کی مرمت، پانی چوری کی روک تھام اور زیرِ زمین پانی کے استعمال کے لیے مؤثر قوانین پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ عوام میں پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کا تحفظ حکومت، اداروں، نجی شعبے اور شہریوں سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر مؤثر منصوبہ بندی، جدید آبی انتظام اور اجتماعی شعور کے ذریعے آج اقدامات کیے جائیں تو مستقبل میں ممکنہ بحران کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر پانی کے وسائل کا غیر محتاط استعمال اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو پینے کے صاف پانی، زراعت اور صنعتی پیداوار کے حوالے سے مزید بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave a reply