مہنگا پٹرول، یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے

مہنگا پٹرول، یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے

تحریر:نسیم شاہد

پٹرول یکمشت تیرہ روپے لیٹر مہنگا ہو گیا اور یہ بات ثابت ہو گئی کہ حکومت کا جہاں اور ہے خلقت کا جہاں اور،کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کس فارمولے کے تحت متعین کی جا رہی ہیں۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا کیا حال ہے،کوئی نہیں بتاتا۔یہ تیرہ روپے کا اضافہ ایک ایسا بم ہے جس نے مہنگائی میں پسے ہوئے عوام کو مزید مار ڈالا ہے۔جماعت ِاسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اسے بے حسی پر مبنی فیصلہ قرار دے کر کراچی میں دھرنے کا اعلان کر دیا ہے،مگر صاحبو اس میں کوئی خبریت نہیں رہی کیونکہ جب سے جماعت ِاسلامی قیمتیں کم کرانے کے لئے میدان میں آئی ہے، قیمتوں کو پَر لگ گئے ہیں، اُڑتی جا رہی ہیں اور حافظ صاحب حکومت سے مذاکرات، مذاکرات کھیل رہے ہیں۔اس احتجاج کا الٹا اثر اب جادو کی طرح سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔اس کا حکومت کے دِل میں کتنا خوف ہے،اس کا اندازہ اِس بڑے اضافے سے لگایا جا سکتا ہے۔ خیر ہونی کو کون روک سکتا ہے اور قیمتیں بڑھنے میں کس کی مجال ہے کہ رکاوٹیں ڈال سکے مگر اب عوام یہ سوچ رہے ہیں یہ سلسلہ آخر رُکے گا کہاں۔یہ روز روز کی بدخبری آخر کب ختم ہوگی۔حکومت کچھ اور نہیں کر سکتی تو کم ازکم اتنا ہی کر دے کہ قیمتوں میں ردوبدل کا پندرہ روزہ نظام ہی بحال کر دے تاکہ عوام کو جھٹکا پندرہ دن بعد لگے۔ یہ روزانہ لگتا ہے تو اُن کے اعصاب شل ہونے لگے ہیں۔میں کل گاڑی میں پٹرول ڈلوا کر گھرآیا تو آتے ہی سوشل میڈیا پر یہ خبر سنی کہ پٹرول کی قیمت تقریباً13روپے بڑھا دی گئی ہے۔میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا مولا تو کتنا رحیم ہے، مجھے قیمتیں بڑھنے سے پہلے پٹرول ڈلوانے کا موقع فراہم کیا۔وگرنہ اعلان کے بعد تو پٹرول پمپ مالکان پٹرول بیچنا بند کر دیتے ہیں اور رات بارہ بجے کے بعد نئی قیمت پر دیتے ہیں۔یہ کس سود و زیاں میں حکمرانوں نے عوام کو ڈال دیا ہے۔زندگی میں ایک سکون اور ٹھہراؤ کبھی ہوتا تھا،اب تو ناپید ہو چکا ہے،ہر طرف بے چینی اور بے یقینی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے روزانہ کی بنیاد پر ڈانواں ڈول رہتے ہیں۔ اسی طرح سبزیاں ہوں یا پھل اُن کی قیمتوں میں اس کمبخت مارے پٹرول و ڈیزل کی وجہ سے مدوجزر رہتا ہے۔آج شیدے ریڑھی والے کے پاس گیا ہوں تو اُس نے آنکھیں ماتھے پر رکھی ہوئی تھیں۔کل تک جو انگور چھ سو روپے کلو دے رہا تھا،آج900روپے قیمت نکالی ہوئی تھی۔ پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟کہنے لگا اُن ٹرک والوں سے پوچھیں جو کے پی کے سے مال لاتے ہیں۔ آج منڈی میں انگور کی پیٹی تین ہزار روپے مہنگی بکی ہے۔ مہنگا ملے گا تو مہنگا ہی بیچیں گے بابو جی۔
کہتا تو وہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ منڈیوں میں بیٹھے ہوئے بیوپاری اور آڑھتی چاہے مال پہلے سے پڑا ہو، ڈیزل مہنگا ہوتے ہی اُس میں ایک دوگنا اضافہ کر دیتے ہیں۔ ان کیلئے تو پٹرول و ڈیزل مہنگا ہونا گویا ایک نعمت ِغیر مترقبہ ہے۔ یہ ہم جو اپنے ریڑھی و خوانچہ فروشوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ انہوں نے سبزی پھل مہنگے کر دیئے ہیں ان بے چاروں کے بس میں تو کچھ بھی نہیں،تازہ کماتے ہیں تازہ کھاتے ہیں، پھل بچ جائے تو الٹا نقصان ہو جاتا ہے۔ جب ایران امریکہ جنگ کے بعد تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں بڑھی تھیں تو حکومت نے خاصی سرگرمی دکھائی تھی، توانائی بچانے کا پروگرام نافذ کر دیا تھا، پٹرول اور ڈیزل کا سرکاری گاڑیوں میں استعمال آدھا کر کے عوام کو احساس دلایا تھا کہ حکومت اُن کے ساتھ ہے مگر اب تو اس بارے میں حکمران طبقہ سوچتا بھی نہیں۔ پٹرول مہنگا ہو گیا تو کیا سرکاری گاڑیوں میں تو اُس نے لیٹر کے حساب سے ڈالا جانا ہے۔ صاحب بہادر کی گاڑی کے لئے اگر دو سو لیٹر ماہانہ کا کوٹہ منظور ہے تو اتنا ہی ملے گا،اب بھلے اُس کے پیسے دوگنا ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ مالِ مفت دلِ بے رحم کی مثال کسی نے دیکھنی ہو تو ہمارے ہاں آ کے دیکھے۔کیا کہیں سے آپ کو لگ رہا ہے جس مصیبت میں مہنگائی کی وجہ سے عوام مبتلا ہیں،اُس کا کوئی تھوڑا بہت اثر معاشرے کی ایلیٹ کلاس پر پڑا ہو۔ اٹھارھویں،انیس گریڈ کے افسروں کی نقل و حرکت کو ہی دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کتنی گاڑیوں کے قافلے میں وہ اپنے دفاتر سے نکلتے ہیں۔ سب گاڑیاں بڑی ہوتی ہیں،جن میں پٹرول اور ڈیزل بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے۔بعض تو گیسی گاڑیاں بھی ہیں جو ایک لیٹر میں پانچ کلو میٹر بھی نہیں کرتیں۔یوں پانی کی طرح پٹرول پینے والی ان گاڑیوں کا بے دریغ استعمال کم ہوا ہے اور نہ کسی کو احساس ہے کہ سرکاری اخراجات کم کر کے عوام کو چھوٹا موٹا ریلیف دیا ہی جا سکتا ہے۔
کل میں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک غریب موٹر سائیکل سوار پٹرول پمپ پر کھڑے ورکر سے کہہ رہا تھا ایک سو روپے کا پٹرول ڈال دے اور وہ انکاری تھا کہ دو سو روپے سے کم پٹرول بند ہے۔ہائے ہائے یہ منظر دیکھ کر مجھے وہ زمانہ یاد آ گیا جب موٹر سائیکل میں تیس چالیس روپے کا پٹرول ڈلوا کے یہ مزدور طبقہ اپنا کام چلا لیتا تھا۔مجھے ایک رنگ کرنے والے کی ضرورت پڑی تو قاسم بیلہ کی پُلی پر گیا جہاں ہر نوع کے مزدور صبح آ کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ کوئی انہیں مزدوری کے لئے لے جائے۔وہ آنے والے لوگوں کو دیکھ کر ایسے لپکتے ہیں جیسے بھوکا روٹی کی طرف لپکتا ہے۔میں نے ایک دو سے بات کی تو انہوں نے کہا بابو جی آپ خود سمجھ دار ہیں، ایک عام آدمی کتنے میں گھر کا نظام چلا سکتا ہے۔ انہوں نے پندرہ سو روپے دیہاڑی کا کہا۔سچی بات ہے میرے اندر سے ایک ہوک سی نکلی، پندرہ سو روپے میں یہ آٹھ گھنٹے کام کر کے گھر جائے گا تو اِس کا چولہا جلے گا۔ایک دو نے پوچھا جانا کہاں ہے، میں نے کہا یہیں قاسم بیلہ میں تو انہوں نے کہا چلیں بابو جی پھر دو سو روپے کم دیدیں، ہمارا کرایہ یا پٹرول نہیں لگے گا۔ خیر میں پندرہ سو دیہاڑی پر رنگ کرنے والے کو لے آیا اور شام کو جاتے ہوئے اُسے پانچ سو روپے اضافی دیئے کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، یہ تمہارا انعام ہے۔اُس کے چہرے پر اُس وقت ایک عجیب سی خوشی تھی۔تو صاحبو، یہ ہیں اس وقت حالات اور ان حالات میں حکومت روزانہ پٹرول کی قیمت بڑھا کر جو نمک چھڑک رہی ہے،اُس نے عوام کے زخموں کو روزانہ کی بنیاد پر ہرا رکھا ہوا ہے۔جانے کب ہوں گے کم، اِس دنیا کے غم۔

نسیم شاہد کا یہ کالم 9 ستمبر 2026 کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

Leave a reply