موت دروازے تک پہنچ چکی تھی، مگر استاد جاگ چکا تھا

موت دروازے تک پہنچ چکی تھی، مگر استاد جاگ چکا تھا

تحریر:عبداللہ

قدرت جب اپنا خوفناک چہرہ دکھاتی ہے تو انسان کی بنائی ہوئی مضبوط دیواریں، پل اور عمارتیں بھی لمحوں میں بے بس دکھائی دینے لگتی ہیں۔ ایسے وقت میں انسان کی اصل طاقت اس کی عمارتیں نہیں بلکہ اس کی حاضر دماغی، فیصلہ سازی اور دوسروں کے لیے قربانی کا جذبہ ہوتی ہے۔
نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے یہی حقیقت ایک بار پھر دنیا کے سامنے رکھ دی۔ پانی کا ایک خوفناک ریلا آبادیوں کو روندتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا اور ایک اسکول میں سیکڑوں نہیں بلکہ 1643 بچے موجود تھے۔ بظاہر اسکول کی مضبوط عمارت محفوظ دکھائی دے رہی تھی، مگر خطرے کی ایک اطلاع نے وہاں موجود ایک استاد اور پرنسپل کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ چند منٹ کی تاخیر بھی ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
پرنسپل راجندر دواڑی نے اس موقع پر وہ فیصلہ کیا جو شاید کسی بھی سربراہ کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہوں نے خطرے کا انتظار کرنے کے بجائے بچوں کو فوراً عمارت سے نکالنے کا حکم دیا۔ خوف زدہ بچوں کو لے کر اساتذہ بلند مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔
اور پھر وہ ہوا جس نے اس فیصلے کی اہمیت دنیا کے سامنے ثابت کردی۔
بچوں کے محفوظ مقام تک پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد سیلابی ریلے نے اسکول کی عمارت اور آس پاس موجود کئی تعمیرات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ عمارت جو چند لمحے پہلے بچوں سے بھری ہوئی تھی، قدرت کے بے رحم طوفان کے سامنے قائم نہ رہ سکی۔
یہ واقعہ صرف ایک قدرتی آفت کی داستان نہیں، بلکہ قیادت کی ایک ایسی مثال ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔
ہم اکثر ہیرو کا تصور کسی ایسے شخص سے کرتے ہیں جو غیر معمولی طاقت رکھتا ہو، مگر حقیقی ہیرو بعض اوقات عام لباس میں ہمارے سامنے کھڑا ایک استاد ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں ہوتا، اس کے پاس کوئی غیر معمولی اختیار نہیں ہوتا، مگر خطرے کے لمحے میں اس کا ایک درست فیصلہ درجنوں، سینکڑوں یا ہزاروں زندگیوں کا رخ بدل سکتا ہے۔
راجندر دواڑی نے بھی یہی کیا۔
وہ چاہتے تو یہ سوچ کر رک سکتے تھے کہ عمارت مضبوط ہے، خطرہ شاید ٹل جائے گا، یا کچھ دیر انتظار کرلیا جائے۔ لیکن بحران میں سب سے خطرناک لفظ اکثر یہی ہوتا ہے: ’’شاید‘‘۔
شاید پانی یہاں تک نہ پہنچے۔
شاید عمارت محفوظ رہے۔
شاید خطرہ گزر جائے۔
مگر بچوں کی زندگی ’’شاید‘‘ کے حوالے نہیں کی جاسکتی تھی۔
ایک استاد کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ کلاس روم میں بچوں کو کتاب پڑھاتا ہے۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب زندگی خود ایک مشکل سوال بن کر سامنے کھڑی ہوجائے۔ اس وقت جو شخص دوسروں کی حفاظت کو اپنی سہولت پر ترجیح دے، وہ صرف استاد نہیں رہتا، وہ محافظ بن جاتا ہے۔
اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ بچوں کی جانیں بچ گئیں، مگر اسکول سے وابستہ دو افراد اس سانحے میں جان سے گئے۔ قدرتی آفت کسی سے رشتہ، عہدہ یا عمر نہیں پوچھتی۔ اسی لیے ایسے علاقوں میں مؤثر وارننگ سسٹم، ہنگامی تربیت اور محفوظ انخلا کے منصوبے محض انتظامی کاغذ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا معاملہ ہیں۔
دنیا کے تمام اسکولوں کے لیے اس واقعے میں ایک سبق پوشیدہ ہے: بچوں کو صرف امتحان کی تیاری نہ کروائی جائے، انہیں زندگی کے غیر متوقع امتحانات کے لیے بھی تیار کیا جائے۔
زلزلہ ہو، سیلاب ہو، آگ ہو یا کوئی اور ہنگامی صورتِ حال—اساتذہ اور طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ خطرے کے پہلے اشارے پر کیا کرنا ہے، کہاں جانا ہے اور کس طرح ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے۔
راجندر دواڑی کی کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہیرو بننے کے لیے کسی تمغے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ہیرو صرف اتنا کرتا ہے کہ خطرے کو دوسروں سے چند لمحے پہلے سمجھ لیتا ہے اور وقت پر فیصلہ کر لیتا ہے۔
ان 1643 بچوں کے لیے شاید وہ چند منٹ ان کی زندگی کا سب سے اہم وقت تھے۔ ان کے لیے ایک استاد نے صرف گھنٹی نہیں بجائی تھی؛ اس نے خطرے کی گھنٹی سن کر زندگی کا راستہ کھول دیا تھا۔
اس لیے راجندر دواڑی کو ’’استاد‘‘ کہنا درست ہے، مگر شاید کافی نہیں۔
وہ اس دن استاد بھی تھے، محافظ بھی، رہنما بھی اور ہیرو بھی۔
اور دنیا کو ایسے ہیروز کی ضرورت ہمیشہ رہے گی—ایسے ہیرو جو مشکل وقت میں تقریر نہیں کرتے، فیصلہ کرتے ہیں۔

Leave a reply