قوم بل دیتی رہی، سیاست خاموش رہی

قوم بل دیتی رہی، سیاست خاموش رہی

تحریر:محمد اکرم چوہدری

کچھ خبریں پڑھی نہیں جاتیں، سینے پر رکھی جاتی ہیں یہ بھی ایسی ہی خبر ہے صرف گیارہ ماہ۔اور بجلی پیدا کرنے والوں کو تقریباً دو ہزار نو سو پینتیس ارب روپے کی ادائیگیاں۔ یہ ہندسہ لکھ دینا آسان ہے، اسے سمجھنا مشکل ہے۔ کیونکہ ہزاروں ارب روپے کسی سرکاری فائل میں لکھی چند سطریں نہیں ہوتے۔ ان میں کسی مزدور کی ساری عمر کی کمائی ہوتی ہے، کسی باپ کی بیٹی کی فیس ہوتی ہے، کسی ماں کی دوا ہوتی ہے، کسی نوجوان کا بند ہوتا کاروبار اور کسی سفید پوش گھر کا آخری بچا ہوا سکون ہوتا ہے۔
اس ملک میں بجلی کا بل اب کاغذ کا ٹکڑا نہیں آتا، گھر میں خوف کا لفافہ آتا ہے میٹر ریڈر گزر جاتا ہے، مگر اس کے چند دن بعد آنے والا بل پورے گھر کا بجٹ روند دیتا ہے۔ تنخواہ سامنے پڑی ہوتی ہے اور سوال یہ ہوتا ہے کہ بجلی کا بل دیں، بچوں کی فیس دیں، راشن خریدیں یا بوڑھے والدین کی دوا؟ اور پھر پارلیمنٹ کے سامنے ایک عدد رکھ دیا جاتا ہے: 2.935 ٹریلین روپے۔
قوم پوچھتی ہے: حضور! اتنا پیسہ گیا کہاں؟ لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس خبر پر شور کہاں ہے؟ وہ سیاسی جماعتیں کہاں ہیں جو معمولی سے سیاسی واقعے پر پریس کانفرنسوں کی قطار لگا دیتی ہیں؟ وہ اسمبلیاں کہاں ہیں جہاں ایک دوسرے کے خلاف نعرے، واک آؤٹ اور تقاریر ختم نہیں ہوتیں؟ وہ لیڈر کہاں ہیں جنہیں قوم کا درد ہر انتخابی جلسے میں اچانک یاد آ جاتا ہے؟ عوام کی جیب سے ہزاروں ارب نکل جائیں تو سیاست پر ایسی خاموشی کیوں اتر آتی ہے؟
شاید پاکستان کا اصل المیہ مہنگی بجلی نہیں۔ اصل المیہ سستی سیاست ہے ایسی سیاست جسے عوام صرف ووٹ ڈالتے وقت یاد آتے ہیں۔ ایسی سیاست جس میں اقتدار بدلتا ہے، تقریریں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مخالف بدل جاتے ہیں ، مگر بجلی کے بل پر لکھی عوام کی قسمت نہیں بدلتی۔ ایک حکومت آتی ہے تو پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ دوسری آتی ہے تو معاہدوں کا رونا روتی ہے۔ تیسری اصلاحات کا اعلان کرتی ہے۔ مگر ہر مہینے ایک پاکستانی اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا وہی بل دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اور حیرت دیکھئے جس گھر میں پنکھا چلانے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے، اسی گھر کے شہری سے ایک ایسے نظام کی قیمت وصول کی جاتی ہے جس کے معاہدے اس نے نہیں کیے، شرائط اس نے طے نہیں کیں، ضمانتیں اس نے نہیں دیں اور فیصلوں کی میز پر اسے کبھی بٹھایا ہی نہیں گیا۔
معاہدہ کسی اور نے کیا، فیصلہ کسی اور نے کیا، فائدہ کسی اور نے اٹھایا اور بل عوام کے نام آ گیا یہی پاکستان کی سیاسی معیشت کا شاید سب سے مختصر تعارف ہے بات یہ نہیں کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو جائز واجبات کیوں ادا کیے گئے۔ ریاستیں معاہدوں کی پابند ہوتی ہیں اور بجلی مفت پیدا نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا نظام آخر بنا کیسے جس میں بجلی پاکستانی شہری کی بنیادی ضرورت سے بڑھ کر اس کی معاشی سزا بن گئی؟ اگر معاہدے درست تھے تو عوام کو پوری تفصیل بتائی جائے۔ اگر غلط تھے تو ذمہ دار کون تھا؟ اگر شرائط ناقابلِ برداشت تھیں تو انہیں قبول کس نے کیا؟
اگر اصلاح ہو چکی ہے تو پھر عام آدمی کے بل میں اس اصلاح کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟ اور اگر نظام واقعی ناگزیر ہے تو پھر اس کا سارا بوجھ صرف اس شخص کی کمر پر کیوں ہے جس کی تنخواہ پہلے ہی مہنگائی کے سامنے ہار چکی ہے؟ یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور حزبِ اختلاف سے بھی۔ کیونکہ عوام کے مسئلے پر خاموشی اختیار کرنے والی اپوزیشن صرف حکومت کی مخالف ہوتی ہے، نظام کی نہیں۔ اگر ہزاروں ارب روپے کی ادائیگی کے اعداد سامنے آنے کے بعد بھی سیاسی جماعتوں کا مرکزی سوال یہ ہے کہ اگلا الیکشن کون جیتے گا، اگلی حکومت کس کی ہوگی اور اگلی کرسی کس کو ملے گی، تو پھر عوام کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی لڑائی اقتدار کی لڑائی سے الگ ہے۔
عوام پوچھ رہے ہیں: بل کیسے دیں؟ سیاست پوچھ رہی ہے: حکومت کیسے لیں؟ یہ دو سوال پاکستان کے موجودہ بحران کا پورا نوحہ ہیں۔ ذرا کسی متوسط گھر میں بیٹھ کر دیکھئے۔ باپ بجلی کا بل ہاتھ میں لیے خاموش ہے۔ ماں حساب لگا رہی ہے کہ اس مہینے کون سی چیز چھوڑ دی جائے۔ بچہ شاید نہیں جانتا کہ اس کی ٹیوشن کیوں بند ہوئی۔ دکاندار سوچ رہا ہے کہ مزید بجلی مہنگی ہوئی تو شٹر کیسے اٹھائے گا،چھوٹی فیکٹری کا مالک مشین بند کرکے مزدور کو کیا جواب دے گا؟
یہ لوگ معاشیات کی اصطلاحیں نہیں جانتے۔ انہیں کیپیسٹی پیمنٹ، گردشی قرضہ، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور پاور پرچیز ایگریمنٹ کی باریکیاں نہیں آتیں۔ انہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ مہینے کے آخر میں پیسے ختم ہو جاتے ہیں، لیکن بل ختم نہیں ہوتے اور شاید حکمران طبقے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اسے اعداد تو دکھائی دیتے ہیں، ان اعداد کے پیچھے کھڑے انسان دکھائی نہیں دیتے۔
دو ہزار نو سو پینتیس ارب روپے ایک عدد نہیںیہ سوال ہے،یہ فردِ جرم ہے، یہ اس معاشی بندوبست کے دروازے پر عوام کی دستک ہے جس میں ریاست طاقتور سے معاہدہ نبھاتی ہے اور کمزور سے قربانی مانگتی ہے، قوم قربانی دیتی رہی ہے، ٹیکس کے نام پر، مہنگائی کے نام پر، قرض اتارنے کے نام پر، معیشت بچانے کے نام پر، بجلی کے نام پر،مگر اب سوال قربانی کا نہیں، حساب کا ہے قوم کو بتایا جائے کہ اس کے نام پر کیے گئے فیصلوں سے کس نے فائدہ اٹھایا، کس نے نقصان کا تخمینہ غلط لگایا، کس نے ناقص شرائط قبول کیں اور کس نے وقت پر انہیں درست نہیں کیا۔
اور سیاسی جماعتوں کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا وہ عوام کی نمائندہ ہیں یا صرف اقتدار کی امیدوار؟ کیونکہ بعض اوقات خاموشی غیر جانبداری نہیں ہوتی۔ خاموشی بھی ایک سیاسی بیان ہوتی ہے اور ہزاروں ارب روپے کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کے سامنے سیاسی طبقے کی یہ خاموشی شاید یہی پیغام دے رہی ہے تم بل بھرتے رہو، ہم سیاست کرتے رہیں گے لیکن تاریخ میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے جب بل ادا کرنے والا آدمی حساب مانگنا شروع کر دیتا ہے اور جس دن پاکستان کے عام آدمی نے بجلی کے بل کو صرف واجب الادا رقم نہیں بلکہ اپنے ووٹ کا سوال بنا لیا، اس دن شاید ایوانوں میں پہلی مرتبہ بجلی واقعی گرے گی۔ کیونکہ قومیں مہنگی بجلی سے نہیں مرتیں وہ اس وقت ٹوٹتی ہیں جب ان کے دکھ کی کوئی سیاسی قیمت باقی نہ رہے۔
محمد اکرم چوہدری کا یہ کالم 10 ستمبر 2026 کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا ۔

Leave a reply