سفید پوش آدمی کی خاموش شکست اور بدلتی ہوئی دنیا

سفید پوش آدمی کی خاموش شکست اور بدلتی ہوئی دنیا

تحریر:محمد رشید

شہر کی ایک عام سی مارکیٹ میں کھڑے ایک بزرگ شخص نے ایک دن مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔

وہ کسی زمانے میں ایک سرکاری ملازم رہے تھے۔ لباس اب بھی سادہ مگر باوقار تھا۔ قمیض صاف ستھری، جوتے پرانے مگر سنبھالے ہوئے، گفتگو میں وہی شائستگی جو کبھی سرکاری دفاتر کے پرانے ملازمین کی پہچان ہوا کرتی تھی۔

وہ گوشت کی دکان پر آئے، کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، پھر آہستہ سے بولے:

“بھائی، گوشت کم دے دینا، کچھ ہڈیاں بھی ڈال دینا۔ گھر میں شوربہ بن جائے گا۔”

یہ ایک عام خریدار کی معمولی درخواست لگ سکتی تھی، لیکن اس جملے کے پیچھے ایک پوری زندگی کی کہانی چھپی ہوئی تھی۔

یہ وہ نسل تھی جس نے ساری عمر حساب سے خرچ کیا، بچوں کی تعلیم کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں، قرض سے بچنے کی کوشش کی اور یہ یقین رکھا کہ عزت، محنت اور دیانت داری انسان کو ایک محفوظ زندگی ضرور دیں گی۔

مگر آج اسی طبقے کے بہت سے لوگ زندگی کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ان کے پاس تجربہ تو بہت ہے، مگر مالی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایک ملک یا ایک شہر تک محدود نہیں۔

دنیا کے کئی معاشروں میں متوسط طبقہ دباؤ کا شکار ہے۔ وہ طبقہ جو کبھی معاشی ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات، رہائش کے مسائل اور غیر یقینی روزگار کے درمیان اپنی جگہ برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

مڈل کلاس کسی بھی معاشرے کا خاموش ستون ہوتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بچوں کو تعلیم دلاتا ہے، کاروبار شروع کرتا ہے، اداروں کو مضبوط کرتا ہے اور معاشرے میں استحکام پیدا کرتا ہے۔

لیکن جب یہی طبقہ کمزور ہونے لگے تو صرف آمدنی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، پورا سماجی توازن متاثر ہوتا ہے۔

آج دنیا کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ دولت پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ پیدا ہونے والی دولت کس تک پہنچ رہی ہے؟

جدید معیشت میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور بڑے مالیاتی نظام نے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ساتھ ہی دولت اور طاقت کے ارتکاز کے نئے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ چند بڑی کمپنیاں اور ادارے عالمی معیشت میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جبکہ عام خاندان بنیادی ضروریات کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نبرد آزما ہیں۔

کچھ مفکرین اس تبدیلی کو سرمایہ داری کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق آج طاقت صرف فیکٹریوں اور زمین کی ملکیت سے نہیں آتی بلکہ معلومات، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور صارفین کے رویوں پر اختیار سے بھی آتی ہے۔

یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ سرمایہ داری کا بحران ہے یا اس کی نئی شکل۔

لیکن ایک حقیقت واضح ہے:

اگر معاشرے میں محنت کرنے والے لوگوں کو مسلسل یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی کوششیں انہیں بہتر مستقبل نہیں دے رہیں، تو اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔

اور جب امید کمزور ہوتی ہے تو صرف معیشت متاثر نہیں ہوتی، سیاست، سماج اور ادارے بھی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک میں سفید پوش طبقے کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہے۔ یہ طبقہ نہ مکمل غربت میں شمار ہوتا ہے کہ اسے ہر جگہ مدد دستیاب ہو، نہ اتنا خوشحال ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو آسانی سے برداشت کر سکے۔

وہ اپنی مشکلات چھپاتا ہے۔

وہ قرض لینے سے گھبراتا ہے۔

وہ اپنی ضروریات کم کرتا ہے تاکہ عزت برقرار رہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں کتنے لوگ اپنی خواہشات قربان کرتے رہ سکتے ہیں؟

ترقی کا اصل پیمانہ صرف بلند عمارتیں، بڑی کمپنیاں یا بڑھتی ہوئی دولت نہیں۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ ایک عام محنت کش شخص اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھ سکے، ایک بزرگ اپنی زندگی کی محنت کے بعد سکون سے رہ سکے، اور ایک خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی عزت نفس داؤ پر نہ لگائے۔

مڈل کلاس کا کمزور ہونا دراصل ایک انتباہ ہے۔

کیونکہ جب معاشرے کا درمیان کا طبقہ مضبوط رہتا ہے تو امیر اور غریب کے درمیان ایک توازن قائم رہتا ہے۔

لیکن جب یہ پل ٹوٹنے لگے تو فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔

بازار میں کھڑا وہ خاموش شخص صرف ایک فرد نہیں تھا۔

وہ ایک سوال تھا۔

ایک ایسا سوال جو ہر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معاشرے کے سامنے کھڑا ہے:

کیا ہماری معاشی ترقی کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا ہے، یا ایسی دنیا بنانا بھی ہے جہاں عام انسان اپنی محنت کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکے؟

Leave a reply