جب حب الوطنی کا امتحان مذہب سے لیا جانے لگے

’’سر… ابو کہتے ہیں ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔‘‘
چودہ سالہ وہ بچہ نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
اسکول کی اسمبلی ختم ہو چکی تھی۔ سفید قمیض پسینے سے بھیگ رہی تھی۔ باقی بچے ایک آواز میں قومی ترانہ نما نعرہ پڑھ رہے تھے، مگر وہ خاموش تھا۔
استاد کی نظر اس پر پڑی۔
’’تم کیوں نہیں پڑھ رہے؟‘‘
بچے نے کوئی بحث نہیں کی۔ کوئی تقریر نہیں کی۔ بس آہستہ سے اتنا کہا:
’’سر… میرے ابو کہتے ہیں کہ وطن سے محبت کرنا فرض ہو سکتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے۔‘‘
چند لمحوں کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر خاموشی ٹوٹی۔
ڈانٹ سے۔
تضحیک سے۔
اور سزا سے۔
مگر شاید اس دن سزا صرف ایک بچے کو نہیں دی گئی تھی۔ اس دن ایک بہت بڑا سوال بھی سزا کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا تھا:
کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شہریوں سے صرف وفاداری نہیں، عقیدت بھی طلب کرے؟
—
وطن… یا معبود؟
قوم سے محبت فطری ہے۔
اپنی مٹی سے محبت فطری ہے۔
اپنے لوگوں، زبان، ثقافت اور تاریخ سے محبت بھی فطری ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاست کہتی ہے:
’’تمہیں صرف مجھ سے محبت نہیں کرنی، تمہیں میری مقرر کردہ علامتوں سے اسی انداز میں عقیدت بھی رکھنی ہوگی جس انداز کا میں مطالبہ کروں۔‘‘
یہیں سے حب الوطنی اور جبری قوم پرستی کے درمیان لکیر مٹنے لگتی ہے۔
اور جب یہ لکیر مٹ جائے تو شہری اور رعایا کے درمیان فرق بھی زیادہ دیر باقی نہیں رہتا۔
ایک آزاد شہری کہتا ہے:
’’میں اپنے وطن سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
ایک مطلق العنان ریاست کہتی ہے:
’’ثابت کرو کہ تم محبت کرتے ہو۔‘‘
پھر وہ ثبوت مانگتی ہے۔
نعرے کا۔
گیت کا۔
سلام کا۔
علامت کا۔
اور آخرکار… ضمیر کا۔
—
’’وندے ماترم‘‘ کا اصل تنازع کیا ہے؟
بھارت میں ’’وندے ماترم‘‘ محض ایک گیت نہیں۔ یہ ایک طویل تاریخی، سیاسی اور تہذیبی بحث کا حصہ ہے۔
بنکم چندر چٹوپادھیائے کی تخلیق نے ہندوستانی قوم پرستی کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ بہت سے ہندوستانیوں کے لیے یہ آزادی کی جدوجہد کی علامت ہے۔
لیکن مسلمانوں کے ایک طبقے کے لیے مسئلہ اس کے ان مذہبی استعاروں سے پیدا ہوتا ہے جن میں مادرِ وطن کو ایسی دیویانہ شکل میں پیش کیا گیا ہے جس کے سامنے مذہبی عقیدت کا تصور ابھرتا ہے۔
یہاں اختلاف وطن سے محبت پر نہیں۔
اختلاف عبادت کے تصور پر ہے۔
اور یہی فرق سمجھنا ضروری ہے۔
اگر ایک مسلمان کہتا ہے:
’’میں ہندوستان کو اپنا وطن سمجھتا ہوں، اس کی ترقی چاہتا ہوں، اس کے لیے جان بھی دے سکتا ہوں، لیکن مذہبی عقیدے کے اعتبار سے کسی سرزمین کی پوجا نہیں کر سکتا‘‘
تو اس جملے میں غداری کہاں سے آگئی؟
—
ریاست کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
یہی وہ سوال ہے جس سے ہمیں ڈرنا چاہیے۔
آج ریاست کہتی ہے:
’’یہ گیت پڑھو۔‘‘
کل ممکن ہے کہا جائے:
’’یہ نعرہ لگاؤ۔‘‘
پھر:
’’اس علامت کے سامنے سر جھکاؤ۔‘‘
اور پھر شاید:
’’ثابت کرو کہ تمہارا دل بھی وہی مانتا ہے جو ریاست چاہتی ہے۔‘‘
یہ وہ مقام ہے جہاں قانون شہری کے جسم سے نکل کر اس کے ضمیر میں داخل ہونے لگتا ہے۔
اور ضمیر…
وہ آخری قلعہ ہے جہاں ریاست کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ریاست آپ سے ٹیکس لے سکتی ہے۔
آپ کے اعمال کو قانون کے دائرے میں رکھ سکتی ہے۔
جرم پر سزا دے سکتی ہے۔
لیکن کیا وہ آپ کو مجبور کر سکتی ہے کہ آپ کسی مخصوص علامت کو مقدس سمجھیں؟
یہ سوال صرف بھارت کا نہیں۔
یہ پوری جدید دنیا کا سوال ہے۔
—
جب وطن ’’مقدس‘‘ بنا دیا جائے
دنیا کی تاریخ میں ایسی ریاستیں کم نہیں گزریں جنہوں نے قوم، پرچم، رہنما یا نظریے کو اس قدر مقدس بنا دیا کہ اختلاف جرم بن گیا۔
فاشزم نے قوم کو ایک مقدس وجود میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
کمیونسٹ آمریتوں نے ریاستی نظریے کو ناقابلِ سوال سچ بنانے کی کوشش کی۔
مختلف آمریتوں نے اپنے رہنماؤں کو ایسے مقام تک پہنچایا جہاں ان پر تنقید سیاسی اختلاف نہیں بلکہ تقریباً مذہبی گستاخی سمجھی جانے لگی۔
مسئلہ علامت نہیں۔
مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب علامت انسان سے بڑی ہو جائے۔
جب پرچم انسان کے ضمیر سے بڑا ہو جائے۔
جب قومی نعرہ مذہبی عقیدے کا امتحان بن جائے۔
جب گیت نہ پڑھنے والا شہری اچانک ’’کم محب وطن‘‘ قرار پانے لگے۔
اور جب سوال پوچھنے والا دشمن سمجھا جانے لگے۔
—
اقبال کا سوال آج بھی زندہ ہے
علامہ اقبال نے قوم پرستی کے اندھے تقدس کے بارے میں خبردار کیا تھا:
’’ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے‘‘
یہ شعر صرف ایک تاریخی بحث نہیں۔
یہ ایک تنبیہ ہے۔
وطن سے محبت انسان کو بلند کر سکتی ہے، مگر وطن کو ایسا مطلق عقیدہ بنا دینا جس کے سامنے انسان کا ضمیر بھی سرنگوں ہو جائے، خطرناک ہو سکتا ہے۔
رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی قوم پرستی کے ایسے تصور پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جو انسانیت کو قومی شناخت کے تابع کر دے۔
سوال یہ نہیں کہ وطن سے محبت ہونی چاہیے یا نہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا وطن سے محبت کے لیے انسان کو اپنی مذہبی آزادی قربان کرنا ہوگی؟
—
سب سے خطرناک لمحہ
ریاست کی طاقت اس وقت سب سے زیادہ خطرناک نہیں ہوتی جب وہ بندوق اٹھاتی ہے۔
وہ اس وقت زیادہ خطرناک ہوتی ہے جب وہ ضمیر کی تعریف لکھنا شروع کرتی ہے۔
کیونکہ بندوق جسم کو زخمی کرتی ہے۔
مگر جبری عقیدت انسان کے اندر کے آزاد انسان کو زخمی کرتی ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں شہری خوف سے نعرہ لگاتا ہے، بظاہر متحد نظر آ سکتا ہے۔
مگر اندر سے وہ ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔
کیونکہ محبت حکم سے پیدا نہیں ہوتی۔
محبت کو قانون کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جس محبت کو پولیس کے ڈنڈے، عدالت کے خوف یا سزا کی دھمکی سے ثابت کروانا پڑے، وہ محبت نہیں رہتی۔
وہ اطاعت بن جاتی ہے۔
—
اصل حب الوطنی کیا ہے؟
اگر کوئی شخص اپنے ملک کی غلط پالیسی پر تنقید کرتا ہے، کیا وہ غدار ہے؟
اگر کوئی شہری قومی علامت کے بارے میں مذہبی اعتراض رکھتا ہے، کیا وہ دشمن ہے؟
اگر کوئی مسلمان کسی مذہبی مفہوم رکھنے والے نعرے سے اپنے عقیدے کی وجہ سے اجتناب کرتا ہے، کیا اس کی حب الوطنی ختم ہو جاتی ہے؟
اگر جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو پھر مسئلہ شہری میں نہیں۔
مسئلہ حب الوطنی کی تعریف میں ہے۔
ایک مضبوط ریاست اپنے شہریوں سے خوف زدہ نہیں ہوتی۔
وہ اختلاف برداشت کرتی ہے۔
وہ مختلف عقائد کے لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے۔
وہ یہ نہیں کہتی:
’’میرے طریقے سے محبت کرو، ورنہ تم محب وطن نہیں۔‘‘
بلکہ وہ کہتی ہے:
’’تم مختلف ہو سکتے ہو، مگر تم اس ملک کے برابر شہری ہو۔‘‘
—
آج ایک گیت ہے، کل کیا ہوگا؟
یہ سوال ہمیں آج پوچھنا ہوگا۔
کیونکہ آزادی ہمیشہ ایک ہی دن میں ختم نہیں ہوتی۔
اکثر آزادی چھوٹے چھوٹے مطالبات کے نیچے دفن ہوتی ہے۔
پہلے کہا جاتا ہے:
’’صرف یہ گیت پڑھ لو۔‘‘
پھر:
’’صرف یہ نعرہ لگا دو۔‘‘
پھر:
’’صرف یہ ثابت کر دو کہ تم ہمارے ساتھ ہو۔‘‘
اور آخرکار:
’’اگر تم ہمارے جیسے نہیں سوچتے تو تم ہمارے نہیں ہو۔‘‘
یہی وہ مقام ہے جہاں قوم شہریوں کا گھر نہیں رہتی۔
وہ ایک امتحانی کمرہ بن جاتی ہے۔
ہر شخص ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے۔
ہر شخص سے وفاداری کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔
اور سب سے آخر میں…
ضمیر سے بھی۔
—
محبت کو حکم مت بنائیے
ریاست چاہے تو قانون نافذ کر سکتی ہے۔
ریاست چاہے تو نظم قائم کر سکتی ہے۔
ریاست چاہے تو سرحدوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔
لیکن ریاست محبت پیدا نہیں کر سکتی۔
وہ دل کے اندر وطن نہیں بنا سکتی۔
وہ عبادت نہیں لکھ سکتی۔
وہ عقیدہ نہیں بدل سکتی۔
وہ ضمیر پر حکم نہیں چلا سکتی۔
کیونکہ جس دن ریاست نے شہری کے ضمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، اسی دن سوال صرف ایک گیت کا نہیں رہتا۔
پھر سوال یہ ہوتا ہے:
انسان آزاد کہاں تک ہے؟
اور اگر ریاست یہ طے کرنے لگے کہ شہری کیا سوچے، کس کے سامنے جھکے، کس چیز کو مقدس سمجھے اور کس انداز میں اپنی محبت ثابت کرے…
تو پھر خطرہ کسی ایک گیت کو نہیں۔
خطرہ انسان کے اندر موجود آخری آزاد مقام کو ہے۔
اور شاید تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:
ریاستیں اطاعت چھین سکتی ہیں، محبت نہیں۔
قانون زبان کو خاموش کر سکتا ہے، ضمیر کو نہیں۔
اور جو ریاست اپنے شہریوں سے محبت کا ثبوت مانگنے لگے، اسے سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کہیں وہ محبت کے نام پر آزادی تو نہیں مانگ رہی۔









