اب دشمن کس سے ٹکرائے گا؟

اب دشمن کس سے ٹکرائے گا؟

تحریر:محمد رشید

 

مسجدِ اقصیٰ کے سانحۂ آتش زدگی نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ پہلے مسلم دنیا کو یہ احساس دلایا تھا کہ بکھری ہوئی قوتیں بڑے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اسی پس منظر میں اسلامی ممالک نے باہمی تعاون کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کیا۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جس اتحاد سے امت کو اپنی اجتماعی قوت کا خواب وابستہ تھا، وقت گزرنے کے ساتھ وہ ادارہ سیاسی بیانات اور سفارتی اجلاسوں تک محدود دکھائی دینے لگا۔

 

اب مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورتِ حال نے ایک بار پھر وہی سوال پوری شدت سے سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا مسلم دنیا اپنی سلامتی کے لیے محض سفارتی مذمتوں پر انحصار کرتی رہے گی یا اپنی اجتماعی دفاعی قوت بھی تشکیل دے گی؟

 

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا مکہ معاہدہ اسی سوال کے جواب کی ایک اہم کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مکہ کی مقدس سرزمین پر طے پانے والے اس دفاعی تعاون نے مسلم دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر یہ تعاون محض کاغذی معاہدہ نہ رہا بلکہ عملی دفاعی شراکت داری میں تبدیل ہوگیا تو اس کے اثرات اسلام آباد، انقرہ اور ریاض سے کہیں آگے تک محسوس ہوں گے۔

 

یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔

 

ایک طرف پاکستان کے پاس جنگی تجربہ، بڑی دفاعی صلاحیت اور خطے میں اہم جغرافیائی حیثیت ہے؛ دوسری طرف ترکیہ ایک مضبوط دفاعی صنعت اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے ساتھ ابھرتی ہوئی طاقت ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس خطے میں غیر معمولی معاشی اور تزویراتی اہمیت موجود ہے۔ اگر یہ تینوں قوتیں اپنی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں مؤثر انداز سے جوڑ دیتی ہیں تو ایک ایسا ماڈل سامنے آسکتا ہے جس میں دولت، ٹیکنالوجی، عسکری تجربہ اور جغرافیائی اہمیت ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں۔

 

اور اگر اس دائرے میں مزید ممالک شامل ہوگئے تو معاملہ اور بھی سنجیدہ ہوجائے گا۔

 

مصر، قطر اور دیگر مسلم ممالک کی ممکنہ شمولیت اس اتحاد کو ایک وسیع تر علاقائی دفاعی ڈھانچے میں تبدیل کرسکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ معاہدہ محض تین ملکوں کا دفاعی سمجھوتا نہیں رہتا بلکہ مسلم دنیا کی تزویراتی سمت بدلنے کی کوشش بن جاتا ہے۔

 

لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

 

اتحاد صرف معاہدے سے نہیں بنتا، اعتماد سے بنتا ہے۔

 

مسلم دنیا کی سب سے بڑی کمزوری شاید اس کی عسکری قوت کی کمی سے زیادہ سیاسی اختلافات، باہمی بداعتمادی اور مختلف خارجہ پالیسیوں کا تصادم ہے۔ اگر مکہ معاہدہ ان رکاوٹوں کو عبور کر گیا تو اس کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی؛ لیکن اگر یہ بھی سابقہ علاقائی اتحادوں کی طرح مشترکہ اعلامیوں تک محدود ہوگیا تو تاریخ اسے ایک اور ادھورا تجربہ قرار دے گی۔

 

ایران کی جانب سے آنے والا محتاط ردعمل بھی قابلِ غور ہے۔ اگر تہران اسے اپنے خلاف محاذ آرائی نہیں سمجھتا تو اس سے ایک اہم امکان پیدا ہوتا ہے: دفاعی تعاون کو کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد بنانے کے بجائے وسیع تر علاقائی استحکام کا ذریعہ بنایا جائے۔

 

یہی اس معاہدے کی اصل آزمائش بھی ہے۔

 

مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، میزائل حملوں، پراکسی تنازعات اور مسلسل عدمِ تحفظ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ غزہ کا بحران، لبنان کی کشیدگی اور ایران اسرائیل محاذ آرائی نے خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی سلامتی کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی ریاست یہ نہیں چاہے گی کہ اس کی قومی سلامتی مکمل طور پر بیرونی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہو۔

 

یہی وجہ ہے کہ ایک مضبوط، باہمی اور قابلِ اعتماد مسلم دفاعی تعاون کا تصور دلکش بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی محسوس ہوتا ہے۔

 

مگر یہاں جذبات کے بجائے حکمتِ عملی درکار ہے۔

 

ایک کامیاب مسلم دفاعی اتحاد کو صرف فوجی طاقت نہیں بلکہ مشترکہ انٹیلی جنس، سائبر دفاع، فضائی نگرانی، دفاعی پیداوار، میزائل ڈیفنس، بحری سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی جیسے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا ہوگا۔ اگر پاکستان کی دفاعی مہارت، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے وسائل ایک مربوط نظام میں ڈھل گئے تو یہ شراکت داری خطے کے طاقت کے توازن پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

 

اور یہی وہ منظر ہے جس سے بعض طاقتیں پریشان ہوسکتی ہیں۔

 

کیونکہ ایک ایسی مسلم دنیا جو معاشی طور پر مضبوط، سیاسی طور پر باہمی مربوط اور دفاعی طور پر خودکفیل ہو، اسے دباؤ میں رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

 

بھارت کے ساتھ پاکستان کی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ عرب و مسلم دنیا کے تنازعات اپنی اپنی نوعیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کو ایک ہی سانچے میں رکھنا درست نہیں، لیکن یہ حقیقت ضرور ہے کہ پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں دفاعی خودانحصاری کی خواہش فطری ہے۔

 

مکہ معاہدہ اسی خواہش کی علامت بن سکتا ہے۔

 

لیکن ایک اور سوال بھی اہم ہے: کیا یہ معاہدہ نیٹو کی طرح کوئی مضبوط مشترکہ دفاعی نظام بن سکے گا؟

 

اس کا جواب آج دینا قبل از وقت ہوگا۔

 

نیٹو کئی دہائیوں میں ادارہ جاتی ڈھانچے، مشترکہ کمان، دفاعی منصوبہ بندی اور باہمی سیاسی عزم کے ذریعے مضبوط ہوا۔ مسلم دنیا کے لیے بھی اگر ایسا کوئی نظام بنانا ہے تو اسے نعروں سے نہیں بلکہ اداروں، قواعد، مشترکہ مشقوں اور واضح دفاعی ذمہ داریوں سے بنانا ہوگا۔

 

ورنہ خطرہ یہ ہے کہ آج کا جوش کل کی خاموشی میں بدل جائے۔

 

مسلم دنیا نے ماضی میں متعدد بار اتحاد کے خواب دیکھے ہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس بار خواب کو ادارہ، حکمتِ عملی اور عملی صلاحیت میں تبدیل کیا جائے۔

 

اور شاید یہی مکہ معاہدے کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

 

اگر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے اس موقع کو محض سیاسی اعلان کے بجائے ایک طویل المدت دفاعی شراکت داری میں بدل دیا، اگر مزید مسلم ممالک اس میں شامل ہوئے، اگر باہمی اعتماد مضبوط ہوا اور اگر دفاعی صنعت، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی میں حقیقی تعاون پیدا ہوگیا تو آنے والے برسوں میں خطے کا نقشہ بدل سکتا ہے۔

 

تب دنیا شاید پہلی بار ایک ایسی مسلم دفاعی قوت کو ابھرتے دیکھے گی جو کسی ملک پر حملے کے لیے نہیں بلکہ اپنی سرزمین، اپنی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو۔

 

اور یہی وہ پیغام ہے جسے مکہ سے اٹھنا چاہیے:

 

مسلم دنیا کسی جنگ کی خواہش مند نہیں، مگر اب شاید وہ بے دفاع رہنے پر بھی آمادہ نہیں۔

 

مکہ معاہدہ اگر واقعی اس سوچ کا آغاز ہے تو یہ محض ایک معاہدہ نہیں، ایک نئے دور کی دستک ہے۔

 

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دستک تاریخ کا دروازہ کھولتی ہے یا ماضی کے کئی ادھورے وعدوں کی طرح وقت کی گرد میں گم ہوجاتی ہے۔

Leave a reply