کینیڈا میں غیرملکی ماہرین کو مخصوص تعلیمی کام کے لیے ورک پرمٹ سے استثنیٰ

کینیڈا کی وفاقی حکومت نے غیرملکی تعلیمی ماہرین کے لیے ورک پرمٹ سے استثنیٰ کی شرائط واضح کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت بعض غیرملکی پروفیسرز اور متعلقہ شعبوں کے تجربہ کار ماہرین کینیڈا کی یونیورسٹیوں میں مخصوص تعلیمی اور تحقیقی جائزہ لینے کی سرگرمیاں ورک پرمٹ کے بغیر انجام دے سکتے ہیں۔
یہ سہولت ان ماہرین کے لیے ہے جنہیں کسی کینیڈین یونیورسٹی یا متعلقہ ادارے کی جانب سے تھیسس کے بیرونی ممتحن، تحقیقی تجویز کے جائزہ کار یا کسی تعلیمی منصوبے کی جانچ کے لیے باقاعدہ طور پر مدعو کیا گیا ہو۔
اہلیت کے لیے ماہر کا اپنے شعبے میں سینئر تعلیمی حیثیت یا متعلقہ صنعت میں نمایاں تجربہ رکھنا اور اس شعبے میں مستند پیشہ ورانہ ساکھ کا حامل ہونا ضروری ہے۔ دعوت دینے والے ادارے کی جانب سے باضابطہ دعوت نامہ بھی اہم دستاویز قرار دیا گیا ہے۔
حکومتی ہدایات کے مطابق یہ سرگرمی چھ ماہ سے کم عرصے کے لیے ہونی چاہیے اور متعلقہ ماہر کو کینیڈا میں موجود کسی ادارے سے اس کام کا معاوضہ نہیں ملنا چاہیے۔ بعض حالات میں امیگریشن افسر وزیٹر ریکارڈ جاری کر کے ورک پرمٹ کے بغیر کام کی اجازت اور اس سے متعلق شرائط درج کر سکتا ہے۔
تاہم ورک پرمٹ سے استثنیٰ کا مطلب کینیڈا میں عام ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ سہولت صرف مخصوص تعلیمی، تحقیقی اور جائزہ لینے والی سرگرمیوں تک محدود ہے۔
غیرملکی ماہرین کو کینیڈا میں داخلے کے لیے دیگر امیگریشن تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔ ضرورت کے مطابق ویزا یا الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (eTA) حاصل کرنا بھی لازمی ہو سکتا ہے۔
حکام ضرورت پڑنے پر ماہر سے دعوت نامہ، پیشہ ورانہ تجربے اور مجوزہ سرگرمی سے متعلق دیگر دستاویزات طلب کر سکتے ہیں۔ حتمی فیصلہ کینیڈا کے امیگریشن افسر کی جانب سے کیس کی تفصیلات اور دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ماہرین کے لیے ضروری ہے کہ سفر سے قبل اپنی صورتحال کے مطابق کینیڈا کے موجودہ امیگریشن قواعد کا جائزہ لیں تاکہ ورک پرمٹ سے استثنیٰ کی شرائط کی درست تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔








