سبز پرچم کے سائے میں ایک تلخ سوال: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

سبز پرچم کے سائے میں ایک تلخ سوال: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر:عبداللہ

ایک دن بعد پاکستان کا یومِ آزادی منایا جائے گا۔ سبز ہلالی پرچم گھروں کی چھتوں، گاڑیوں اور بازاروں میں لہراتا دکھائی دے گا۔ گلیاں سبز و سفید رنگوں سے سجیں گی، ملی نغمے فضا میں گونجیں گے، بچے چہروں پر پاکستان کا پرچم سجائے گھومیں گے اور ہر طرف ایک ہی صدا سنائی دے گی: پاکستان زندہ باد!
یہ منظر خوب صورت بھی ہوگا اور جذباتی بھی۔
مگر جشن کے شور میں ایک سوال شاید پھر بھی ہمارے کانوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا:
کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
یا ہم نے صرف ایک آزاد مملکت حاصل کی ہے؟
یہ سوال تلخ ضرور ہے، مگر شاید آج کے پاکستان کے لیے اس سے زیادہ ضروری سوال کوئی نہیں۔
تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کو ہیں۔ ایک نسل رخصت ہوئی، دوسری آئی، پھر تیسری اور چوتھی بھی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ ہم نے حکومتیں بدلتے دیکھیں، حکمران بدلتے دیکھے، جمہوریت کے ادوار دیکھے، آمریت کے سائے دیکھے، جنگیں دیکھیں، سیاسی تحریکیں دیکھیں، معاشی بحران جھیلے اور ایسے مواقع بھی دیکھے جب دنیا نے پاکستان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔
لیکن آج بھی ایک عام پاکستانی کے سامنے وہی بنیادی سوال کھڑا ہے:
کیا ریاست میرے لیے بھی اتنی ہی طاقتور ہے جتنی ایک بااثر شخص کے لیے؟
کیا قانون غریب اور امیر کے لیے برابر ہے؟
کیا عام شہری کو وہی انصاف مل سکتا ہے جو طاقتور کو میسر ہے؟
کیا مزدور کا بچہ بھی وہی تعلیم حاصل کرسکتا ہے جو کسی صاحبِ اقتدار کے بچے کو حاصل ہے؟
کیا ایک نوجوان اپنی قابلیت کی بنیاد پر روزگار حاصل کرسکتا ہے یا اسے سفارش، تعلق اور طاقت کے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا ایک عام پاکستانی اپنے مستقبل کے بارے میں پُراعتماد ہے؟
اگر ان سوالات کے جواب ہمیں بے چین کرتے ہیں تو شاید اس بار جشنِ آزادی صرف جھنڈیاں لگانے کا نام نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں چند لمحوں کے لیے ملی نغموں کے شور سے باہر نکل کر تاریخ کی خاموش گلیوں میں بھی جھانکنا ہوگا۔
پاکستان کا قیام معمولی واقعہ نہیں تھا۔
ایک ایسی ریاست وجود میں آئی جس کے آغاز ہی میں مسائل کا پہاڑ موجود تھا۔ وسائل محدود تھے، لاکھوں لوگ ہجرت کرچکے تھے، انتظامی ڈھانچہ نوزائیدہ تھا، سرحدی خطرات موجود تھے اور دنیا کے سامنے ایک نئی ریاست کو خود کو منوانا تھا۔
اس کے باوجود پاکستان کھڑا ہوا۔
پھر آگے بڑھا۔
اور آج دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہے۔
یہ کامیابی معمولی نہیں۔ اسے تسلیم نہ کرنا تاریخ سے ناانصافی ہوگی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم دفاع کے میدان میں اتنا آگے بڑھ سکتے ہیں تو قانون، معیشت، تعلیم، صحت اور ادارہ جاتی استحکام کے میدان میں کیوں نہیں؟
ہم نے ایٹم بم بنا لیا، مگر کیا ہم نے ایسا نظام بنا لیا جس میں ایک عام آدمی کو انصاف کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے؟
ہم نے میزائل بنا لیے، مگر کیا ہم نے اپنے بچوں کے لیے ایسا تعلیمی نظام بنا لیا جس میں غریب اور امیر کے بچے کے مستقبل کے درمیان اتنی بڑی خلیج نہ ہو؟
ہم نے بڑے بڑے منصوبے بنائے، مگر کیا ہم نے ایسی معیشت بنا لی جو بار بار قرض کے سہارے کی محتاج نہ ہو؟
یہی وہ مقام ہے جہاں جشنِ آزادی ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔
ریاست صرف زمین کا نام نہیں۔ ریاست شہری، قانون، ادارے، معیشت اور اعتماد کا نام ہے۔
اور شاید ہمارے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک اعتماد کا بحران ہے۔
عوام کو قانون پر اعتماد چاہیے۔
نوجوان کو مستقبل پر اعتماد چاہیے۔
کاروباری شخص کو معیشت پر اعتماد چاہیے۔
مریض کو صحت کے نظام پر اعتماد چاہیے۔
طالب علم کو تعلیم کے نظام پر اعتماد چاہیے۔
اور شہری کو یہ یقین چاہیے کہ ریاست مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
جب یہ اعتماد ختم ہونے لگے تو صرف حکومتیں نہیں، پورا معاشرہ کمزور ہونے لگتا ہے۔
ہماری سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتی۔
آمریت آئی تو اسے راستہ دینے والے صرف غیر سیاسی حلقے نہیں تھے۔ سیاست کے بڑے حصوں نے بھی مختلف ادوار میں غیر جمہوری نظاموں کے ساتھ سمجھوتے کیے۔ دوسری طرف جمہوری حکومتیں بھی ہمیشہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہیں۔
نتیجہ؟
جمہوریت کمزور ہوتی رہی اور ادارہ جاتی کشمکش مضبوط ہوتی رہی۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کس نے اقتدار حاصل کیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار کا نظام مضبوط کیوں نہیں ہوسکا؟
پارلیمان قانون بناتی ہے، حکومت اسے نافذ کرتی ہے، عدلیہ انصاف فراہم کرتی ہے اور ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرے میں کام کرتے ہیں۔ جب ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر دوسرے ادارے کا احترام کرے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔
لیکن جب ادارے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں، اختیارات کی کشمکش بڑھ جائے اور آئینی حدود دھندلا جائیں تو نقصان کسی ایک فریق کا نہیں ہوتا۔
نقصان پاکستان کا ہوتا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ صرف سیاست دانوں پر نہیں ڈال سکتے۔
کرپشن ہوئی؟ احتساب ہونا چاہیے۔
اقرباپروری ہوئی؟ اس کا حساب ہونا چاہیے۔
ناقص حکمرانی ہوئی؟ جواب طلبی ہونی چاہیے۔
سیاسی انتقام ہوا؟ اس کا راستہ روکنا ہوگا۔
لیکن کیا صرف سیاست دان ذمہ دار ہیں؟
نہیں۔
یہ ملک کسی ایک شخص، ایک جماعت یا ایک ادارے نے نہیں بنایا اور نہ ہی اسے کسی ایک فریق کی غلطیوں نے اس مقام تک پہنچایا ہے۔
ہماری مشکلات کئی دہائیوں کی اجتماعی ترجیحات، کمزور فیصلوں، سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کشمکش اور معاشی بے تدبیری کا نتیجہ ہیں۔
اس لیے اگر ناکامی اجتماعی ہے تو اصلاح بھی اجتماعی ہوگی۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مایوسی کے بجائے امید جنم لیتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔
ہمیں انہیں ایسا پاکستان بھی دینا ہوگا جس میں آزادی محسوس کی جاسکے۔
ایسی آزادی جس میں شہری کو انصاف مانگنے سے خوف نہ آئے۔
ایسی آزادی جس میں نوجوان کو اپنے مستقبل کے لیے ملک چھوڑنے کو واحد راستہ نہ سمجھنا پڑے۔
ایسی آزادی جس میں غریب کا بچہ صرف غریب پیدا ہونے کی سزا نہ بھگتے۔
ایسی آزادی جس میں قانون کتاب کے صفحات تک محدود نہ ہو بلکہ طاقتور کے دروازے پر بھی اتنی ہی قوت سے دستک دے جتنی کمزور کے دروازے پر۔
اور ایسی آزادی جس میں ریاست شہری سے صرف قربانی نہ مانگے بلکہ اسے تحفظ، عزت، انصاف اور مواقع بھی فراہم کرے۔
آٹھ دہائیاں بہت ہوتی ہیں۔
اب شاید الزام تراشی کے لیے وقت کم اور تعمیر کے لیے وقت زیادہ ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگلی آٹھ دہائیاں بھی اسی سوال میں گزارنی ہیں کہ پاکستان کی سمت درست کیوں نہیں؟ یا ہم واقعی اپنی سمت درست کرنے کا فیصلہ کریں گے؟
یہ فیصلہ صرف حکمرانوں نے نہیں کرنا۔
یہ فیصلہ ہم سب نے کرنا ہے۔
سیاست دانوں نے بھی۔
اداروں نے بھی۔
عدلیہ نے بھی۔
پارلیمان نے بھی۔
میڈیا نے بھی۔
کاروباری طبقے نے بھی۔
اور عام شہری نے بھی۔
کیونکہ پاکستان صرف حکومت کا نام نہیں۔
پاکستان ہم ہیں۔
اس یومِ آزادی پر جھنڈا ضرور لہرائیے۔ ملی نغمے ضرور سنیے۔ بچوں کو سبز و سفید رنگ ضرور پہنائیے۔ آزادی کی خوشی ضرور منائیے۔
مگر ایک لمحے کے لیے اپنے دل سے یہ سوال بھی کیجیے:
ہم اپنے حصے کی آزادی کے ساتھ اپنے حصے کی ذمہ داری کب ادا کریں گے؟
کیونکہ قومیں صرف جشن منانے سے عظیم نہیں بنتیں۔
قومیں تب عظیم بنتی ہیں جب وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی ہیں، اپنے ادارے مضبوط کرتی ہیں، قانون کو طاقتور بناتی ہیں، تعلیم کو ترجیح دیتی ہیں، معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔
شاید اس بار ہمیں جشنِ آزادی کا مطلب تھوڑا بدلنا ہوگا۔
جشن صرف اس بات کا نہیں کہ پاکستان آزاد ہوا تھا۔
جشن اس عزم کا بھی ہو کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں مضبوط، منصفانہ، خوشحال اور باوقار بنانا ہے۔
آنے والی نسلیں جب پاکستان کا اگلا یومِ آزادی منائیں تو انہیں یہ سوال نہ پوچھنا پڑے:
“کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟”
بلکہ وہ پورے یقین سے کہہ سکیں:
“ہاں، ہم ایک ایسی آزاد ریاست کے شہری ہیں جہاں قانون سب کے لیے برابر ہے، انصاف سب کے لیے ممکن ہے، مواقع سب کے لیے موجود ہیں اور مستقبل ہمارے بچوں کا منتظر ہے۔”
یہی وہ آزادی ہوگی جس پر جشن بھی بنتا ہے۔
اور شاید یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔
پاکستان زندہ باد۔

Leave a reply