کتابیں خطرے میں: علم کا اگلا مالک کون؟

کتابیں خطرے میں: علم کا اگلا مالک کون؟

تحریر:نور فاطمہ

آج ہمارے گھروں میں کتابیں موجود ہیں۔ الماریوں میں، میزوں پر، پرانے صندوقوں میں، یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں اور بعض اوقات ایسے کمروں میں جہاں برسوں سے کوئی نہیں گیا۔ ہم انہیں دیکھ کر مطمئن رہتے ہیں کہ علم محفوظ ہے۔ لیکن کتاب کا اصل تحفظ صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ کسی انسان کے ہاتھ میں دوبارہ آ سکتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا نے کتاب کے مواد کو محفوظ رکھنے کا ایک نیا راستہ ضرور دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک نیا سوال بھی پیدا ہوا ہے: اگر کتاب کا متن چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ڈیٹا سینٹروں میں محفوظ ہو اور اصل کتابیں ہمارے درمیان موجود نہ رہیں تو کیا ہمارا علمی ورثہ واقعی محفوظ رہے گا؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ڈیجیٹل نقل اور اصل کتاب ایک ہی چیز نہیں۔ ایک پرانی کتاب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ اس کے کاغذ کی کیفیت، طباعت، حاشیے، نقشے، تصاویر، سرورق، جلد بندی اور کبھی کبھی کسی سابق مالک کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک سطر بھی تاریخ کا حصہ ہوتی ہے۔ ایک ڈیجیٹل فائل شاید عبارت بچا لے، مگر اس عبارت کے گرد موجود پوری دنیا کو نہیں بچا سکتی۔

مصنوعی ذہانت نے علم تک رسائی کو غیر معمولی طور پر آسان بنا دیا ہے۔ چند الفاظ لکھیں اور ایک لمحے میں کسی موضوع پر جواب سامنے آ جاتا ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ انسانی تاریخ کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوگی۔ مگر سہولت کے ساتھ اختیار بھی آتا ہے۔

اگر مستقبل میں انسان کسی تاریخی واقعے کے بارے میں جاننا چاہے اور اس کے پاس اصل کتاب، اصل دستاویز یا مختلف مصنفین کی آرا تک رسائی نہ ہو، بلکہ صرف ایک مصنوعی نظام کا تیار کردہ جواب ہو، تو سوال یہ ہوگا کہ وہ جواب کس بنیاد پر تیار ہوا؟ کن کتابوں کو اہم سمجھا گیا؟ کن تحریروں کو نظرانداز کیا گیا؟ کس مصنف کو معتبر قرار دیا گیا اور کس کی آواز کو غیر ضروری سمجھا گیا؟

علم کی دنیا میں سب سے خطرناک چیز لاعلمی نہیں، بلکہ ایسا علم ہے جسے ہم مکمل اور آخری سچ سمجھ لیں۔

کتابوں کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ قاری کو اختلاف کا موقع دیتی ہیں۔ ایک ہی تاریخی واقعے پر پانچ کتابیں پڑھیں تو پانچ مختلف زاویے سامنے آ سکتے ہیں۔ قاری خود فیصلہ کرتا ہے کہ کس دلیل میں وزن ہے۔ مصنوعی ذہانت اگر ان تمام آوازوں کو ایک مختصر جواب میں سمیٹ دے تو سہولت تو پیدا ہوتی ہے، مگر اختلاف کی وہ وسعت کم ہو سکتی ہے جو فکری آزادی کے لیے ضروری ہے۔

اسی لیے کتابوں کو صرف ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنا کافی نہیں۔ اصل کتابوں، خصوصاً نایاب اور قدیم کتابوں کی جسمانی حفاظت بھی ضروری ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر پرانی کتاب کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں۔ قانونی اعتبار سے وہ کسی شخص، ادارے یا کتب خانے کی ملکیت ہو سکتی ہے، مگر تہذیبی اعتبار سے وہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

ایک سو سال بعد پیدا ہونے والا بچہ آج کی دنیا کے بارے میں کیا جانے گا؟ یہ صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوگا کہ آج ہم نے کتنا ڈیٹا محفوظ کیا، بلکہ اس پر بھی منحصر ہوگا کہ ہم نے کتنی مختلف آوازوں کو زندہ رہنے دیا۔

مصنوعی ذہانت کو کتابوں کا دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔ یہی ٹیکنالوجی دنیا بھر کے علمی ذخیرے کو محفوظ، قابلِ تلاش اور عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنانے کا شاندار ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اختیار کا ارتکاز ہے۔

اگر دنیا کی زیادہ تر علمی دولت چند کمپنیوں کے پاس چلی گئی تو ہمیں یہ سوال مسلسل پوچھنا ہوگا کہ اس علم کی نگرانی کون کرے گا، اس کی بنیاد کیا ہوگی اور آنے والی نسلوں کو اصل ماخذ تک رسائی کیسے ملے گی؟

حکومتوں، جامعات، لائبریریوں، عجائب گھروں اور نجی اداروں کو مل کر نایاب کتابوں کے تحفظ کے لیے عالمی منصوبہ بنانا چاہیے۔ اہم کتابوں کی ڈیجیٹل نقول ضرور تیار ہوں، مگر اصل نسخوں کے محفوظ ذخیرے بھی قائم رہیں۔ علمی ورثے کو صرف کاروباری اثاثہ نہیں بلکہ انسانی ورثہ سمجھا جائے۔

کیونکہ اگر ایک دن ہماری اولاد کسی عجائب گھر میں شیشے کے پیچھے رکھی ایک پرانی کتاب دیکھ کر پوچھے کہ یہ کیا ہے، تو ہمیں یہ جواب نہیں دینا چاہیے کہ ’’یہ وہ چیز ہے جسے کبھی ہم پڑھا کرتے تھے۔‘‘

بہتر یہ ہوگا کہ وہ کتاب شیشے کے پیچھے نہ ہو۔

وہ کسی بچے کے ہاتھ میں ہو۔

اور وہ بچہ اسے پڑھ رہا ہو۔

Leave a reply