بنگلہ دیش اور بھارت آگے نکل گئے، پاکستان کیوں پیچھے رہ گیا؟

بنگلہ دیش اور بھارت آگے نکل گئے، پاکستان کیوں پیچھے رہ گیا؟

تحریر:محمد محسن

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف منتخب اور غیر منتخب حکومتوں کی معاشی کارکردگی کا جائزہ ترقیاتی بجٹ، بجٹ خسارے، بے روزگاری اور غربت کی شرح جیسے اشاریوں کی بنیاد پر لیا جا سکتا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مختلف ادوار میں معاشی پالیسیوں اور نتائج میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ایوب خان کے دور میں ترقیاتی بجٹ نسبتاً زیادہ جبکہ بجٹ خسارہ محدود رہا۔ بعد ازاں یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں بجٹ خسارہ بڑھا، جبکہ ترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافہ نہ ہو سکا۔ ضیاء الحق کے دور میں بھی بجٹ خسارہ نسبتاً بلند سطح پر رہا۔
جمہوری ادوار میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کے دوران ترقیاتی بجٹ اور بجٹ خسارے میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ 1999 سے 2008 تک پرویز مشرف کے دور میں بجٹ خسارہ نسبتاً کم اور ترقیاتی سرگرمیوں میں بہتری رپورٹ کی گئی۔ بعد ازاں 2008 سے 2013 کے دوران ترقیاتی بجٹ میں کمی اور بجٹ خسارے میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 2013 سے 2018 کے عرصے میں معاشی اشاریوں میں کچھ بہتری آئی۔ 2018 کے بعد بجٹ خسارہ دوبارہ بڑھا اور حالیہ برسوں میں بھی مالی دباؤ برقرار رہا۔
بے روزگاری کے حوالے سے ابتدائی ادوار میں شرح نسبتاً کم رہی، تاہم وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ حالیہ برسوں میں بے روزگاری کی شرح ماضی کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
غربت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جائزے میں سب سے کم غربت پرویز مشرف کے دور (تقریباً 22 تا 24 فیصد) اور اس کے بعد نواز شریف کے تیسرے دور (24 تا 25 فیصد) میں بتائی گئی ہے، جبکہ سب سے زیادہ غربت ذوالفقار علی بھٹو اور یحییٰ خان کے ادوار کے لیے بیان کی گئی ہے۔ تاہم یہ اعداد مختلف ذرائع اور پیمائش کے طریقوں پر مبنی ہیں، اس لیے ان میں اختلاف ممکن ہے۔
علاقائی موازنہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت نے گزشتہ چند دہائیوں میں غربت میں نمایاں کمی کی، جبکہ پاکستان میں غربت کم ہونے کی رفتار نسبتاً سست رہی۔ عالمی بینک کے 2022 کے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق نچلے متوسط آمدنی والے ممالک کی بین الاقوامی غربت کی لکیر پر پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 23 فیصد، بھارت میں 5.3 فیصد اور بنگلہ دیش میں 5.9 فیصد رہی۔
مجموعی طور پر معاشی اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو غربت میں کمی، روزگار کے مواقع بڑھانے، ترقیاتی اخراجات مؤثر بنانے اور مالی نظم و ضبط بہتر کرنے کے لیے مستقل اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق پائیدار معاشی اصلاحات اور تسلسل ہی عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری لا سکتے ہیں۔

Leave a reply