ہوائی سفر کے دوران اچانک جھٹکے کیوں لگتے ہیں؟ ماہرین نے اہم وجوہات اور حفاظتی تدابیر بتا دیں

0
17
ہوائی سفر کے دوران اچانک جھٹکے کیوں لگتے ہیں؟ ماہرین نے اہم وجوہات اور حفاظتی تدابیر بتا دیں

ہوائی سفر کے دوران کئی مسافر ایسے لمحے کا سامنا کرتے ہیں جب طیارہ اچانک جھٹکے محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت بظاہر خوفناک محسوس ہوتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق زیادہ تر صورتوں میں یہ ایک معمول کا فضائی عمل ہوتا ہے جسے ایئر ٹربولنس کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب طیارہ مختلف رفتار یا سمت رکھنے والی ہوائی لہروں سے گزرتا ہے تو اسے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ جدید مسافر بردار طیارے ایسے جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے مضبوط انداز میں تیار کیے جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں ٹربولنس سے طیارے کو سنگین خطرہ لاحق ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

ایئر ٹربولنس کی اہم اقسام

ہوابازی کے ماہرین کے مطابق ٹربولنس کی کئی اقسام ہوتی ہیں، جن میں کلیئر ایئر ٹربولنس سب سے زیادہ غیر متوقع سمجھی جاتی ہے۔ یہ صاف موسم میں پیدا ہوتی ہے اور اکثر ریڈار پر بھی آسانی سے نظر نہیں آتی۔

اس کے علاوہ ویک ٹربولنس بڑے طیارے کے پیچھے بننے والے طاقتور ہوائی بھنور کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ تھرمل ٹربولنس زمین کے گرم ہونے سے اوپر اٹھنے والی گرم ہوا کے باعث سامنے آتی ہے۔ خراب موسم، بارش یا مختلف فضائی نظاموں کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی کیفیت کو فرنٹل ٹربولنس کہا جاتا ہے۔

مسافروں کے لیے ممکنہ خطرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ٹربولنس کے دوران سب سے زیادہ خطرہ ان افراد کو ہوتا ہے جنہوں نے سیٹ بیلٹ نہ باندھی ہو یا جو اپنی نشست سے اٹھے ہوئے ہوں۔ اچانک جھٹکوں کی صورت میں مسافر زخمی ہو سکتے ہیں، جبکہ کیبن میں موجود سامان یا ٹرالیاں بھی حرکت کر سکتی ہیں۔

بعض حالات میں شدید ٹربولنس کے باعث پائلٹ حفاظتی اقدام کے طور پر پرواز کا راستہ تبدیل کر سکتے ہیں یا ضرورت پڑنے پر قریبی ہوائی اڈے پر لینڈنگ کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں، تاہم ایسے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔

محفوظ سفر کے لیے احتیاطی تدابیر

ماہرین اور ایئر لائنز مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ دورانِ پرواز جب بھی اپنی نشست پر موجود ہوں، سیٹ بیلٹ باندھے رکھیں، چاہے موسم پرسکون ہی کیوں نہ دکھائی دے۔ یہی احتیاط اچانک ٹربولنس کی صورت میں چوٹ سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے بعض علاقوں میں کلیئر ایئر ٹربولنس کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی لیے ایئر لائنز جدید موسمیاتی نظام، سیٹلائٹ ڈیٹا اور پیشگی انتباہی ٹیکنالوجی کی مدد سے خطرناک فضائی علاقوں کی نشاندہی کرتی ہیں تاکہ پرواز کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔

ہوابازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹربولنس اگرچہ مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم جدید طیارے سخت حفاظتی معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں شدید فضائی جھٹکوں کا سامنا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ ایسے میں مسافروں کے لیے سب سے اہم بات حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا اور پرسکون رہنا ہے۔

Leave a reply