روشنیوں کے شہر پر اندھیروں کا سایہ، ذمہ دار کون؟

روشنیوں کے شہر پر اندھیروں کا سایہ، ذمہ دار کون؟

تحریر:محمد محسن

کراچی صرف ایک شہر نہیں، پاکستان کی معاشی زندگی کی وہ دھڑکن ہے جس کے رکنے سے پورا ملک متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں بندرگاہوں سے تجارت کا پہیہ گھومتا ہے، جہاں صنعتیں لاکھوں خاندانوں کا روزگار چلاتی ہیں، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتے ہیں۔ مگر افسوس، آج یہی شہر اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔

کبھی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی آج ٹوٹی سڑکوں، گندے نالوں، بے ہنگم ٹریفک، پانی کے بحران اور ناقص شہری منصوبہ بندی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کہاں ہے، سوال یہ ہے کہ اتنے برسوں بعد بھی حل کیوں نہیں نکالا جا سکا؟

کراچی کی سڑکیں کسی بھی ترقی یافتہ شہر کی پہچان ہوتی ہیں، مگر یہاں سڑکیں تعمیر ہونے کے چند ماہ بعد دوبارہ کھدائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کہیں پانی کی لائن کا کام شروع ہوتا ہے، کہیں گیس یا ٹیلی کمیونی کیشن کا منصوبہ، اور آخر میں شہریوں کو دھول، ٹریفک جام اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں کا تحفہ ملتا ہے۔

بارش کا موسم آتے ہی کراچی کے مسائل کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں کی بارش کئی علاقوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔ سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرتی ہیں، گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں، کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور عام شہری اپنی روزمرہ زندگی بچانے کی کوشش میں مصروف ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف بارش کا مسئلہ نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری کمزور شہری نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کراچی قومی معیشت میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے، مگر اس کے شہری اکثر بنیادی سہولتوں کے لیے بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ صاف پانی، بہتر ٹرانسپورٹ، محفوظ سڑکیں، موثر نکاسی آب اور منظم شہری سہولتیں اب بھی ایک خواب محسوس ہوتی ہیں۔

کراچی کے مسائل کی جڑ صرف ایک ادارہ، ایک حکومت یا ایک جماعت نہیں۔ یہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی کمزور منصوبہ بندی، اختیارات کی تقسیم، اداروں کے درمیان عدم تعاون، سیاسی ترجیحات اور جوابدہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہیں۔ کسی نے ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کیے، کسی نے ماضی کی حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا، مگر عام شہری کا سوال آج بھی وہی ہے: آخر کراچی کی حالت کب بدلے گی؟

ہر نئی حکومت اپنی کارکردگی بیان کرتی ہے، لیکن عوام اپنے مسائل کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ صورتحال پر شاعر انور مسعود کے مشہور طنزیہ شعر کا مفہوم یاد آتا ہے کہ ہر مسئلے کا ذمہ دار ہمیشہ پچھلی حکومت کو قرار دے دیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اصلاح کے لیے موجودہ ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے۔

کراچی کو الزام تراشی نہیں، ایک واضح منصوبے کی ضرورت ہے۔ ایسا منصوبہ جس میں سیاسی مفاد سے زیادہ شہری مفاد کو اہمیت دی جائے۔ ایک ایسا نظام جہاں ادارے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بجائے مل کر کام کریں، جہاں ترقیاتی منصوبے کاغذوں سے نکل کر زمین پر نظر آئیں اور جہاں شہریوں کو بنیادی سہولتیں کسی احسان کے طور پر نہیں بلکہ حق کے طور پر ملیں۔

دنیا کے بڑے شہر بھی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، مگر فرق صرف یہ ہے کہ وہ مسائل کو مستقل منصوبہ بندی سے حل کرتے ہیں۔ کراچی کے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیت بھی اور انسانی طاقت بھی، ضرورت صرف درست سمت، شفاف حکمت عملی اور سیاسی عزم کی ہے۔

اگر پاکستان کو معاشی ترقی کی منزل حاصل کرنی ہے تو کراچی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اس شہر کی بہتری صرف کراچی والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔

کراچی آج بھی امید کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگ آج بھی محنت کرتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں اور بہتر مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ وعدوں کی سیاست ختم ہو اور عملی اقدامات کا دور شروع ہو۔

کیونکہ اگر معاشی شہ رگ ہی مسلسل مشکلات کا شکار رہے گی تو اس کی تکلیف پورے ملک کو محسوس ہوگی۔

Leave a reply