خاموش نسل یا آنے والے انقلاب کی آہٹ؟

کبھی کبھی قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جب گلیاں خاموش، یونیورسٹیاں سنسان اور نوجوان بظاہر لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سوال ختم ہو گئے ہوں، خواب تھک گئے ہوں اور تبدیلی کی خواہش کہیں گم ہو گئی ہو۔ مگر تاریخ کا مزاج ایسا نہیں۔ تاریخ خاموشی کے اندر بھی حرکت تلاش کرتی ہے، کیونکہ بڑے طوفان اکثر شور سے نہیں بلکہ گہری خاموشی سے جنم لیتے ہیں۔
آج دنیا جس نسل کو جنریشن زی کے نام سے جانتی ہے، وہ ایک منفرد دور میں پروان چڑھی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے کتاب کے ساتھ اسکرین دیکھی، مقامی مسائل کے ساتھ عالمی واقعات کا مشاہدہ کیا اور چند سیکنڈ میں دنیا بھر کی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ اس نسل کو کبھی بے صبر کہا جاتا ہے، کبھی غیر سنجیدہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر نسل کو سمجھنے کے لیے اس کے حالات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
نوجوان صرف موبائل فون استعمال کرنے والا فرد نہیں بلکہ اپنے عہد کا سب سے حساس مشاہدہ کرنے والا انسان بھی ہوتا ہے۔ وہ مہنگائی کو محسوس کرتا ہے، روزگار کے بحران کو دیکھتا ہے، تعلیم کے مسائل سے گزرتا ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے۔ اس کے سوالوں کی زبان نئی ہو سکتی ہے، مگر ان کے پیچھے چھپی بے چینی صدیوں پرانی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے نوجوان ایک ہی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ ہیں۔ وہ ایک جیسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، ایک جیسے عالمی رجحانات دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے خیالات سے واقف ہوتے ہیں، مگر ان کے زمینی تجربات مختلف ہیں۔ کہیں روزگار کا بحران بڑا مسئلہ ہے، کہیں معاشی عدم مساوات، کہیں سیاسی بے یقینی اور کہیں سماجی دباؤ۔ یہی حالات نوجوانوں کی سوچ اور ترجیحات کو تشکیل دیتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ نوجوانوں نے ہمیشہ تبدیلی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ دنیا کی بڑی تحریکوں میں نوجوانوں نے سوال اٹھائے، مکالمہ شروع کیا اور پرانے تصورات کو چیلنج کیا۔ کبھی ان کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں، کبھی پمفلٹ، کبھی جلسے اور آج ان کے پاس ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہیں۔ ذرائع بدلتے رہتے ہیں مگر تبدیلی کی خواہش اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
ہمارے معاشروں میں ایک عرصے تک طلبہ سیاست اور نوجوانوں کے اجتماعی کردار کو محدود کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں مکالمے کی فضا کمزور ہوئی۔ لیکن سوال ختم نہیں ہوئے۔ نوجوان آج بھی اپنے مستقبل، اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے اظہار کے راستے تبدیل ہو چکے ہیں۔
سوشل میڈیا کو اکثر صرف انتشار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر یہی پلیٹ فارم نوجوانوں کو دنیا بھر کے خیالات، تحقیق اور تجربات سے جوڑتا بھی ہے۔ ایک نوجوان جو اپنے کمرے میں بیٹھا ہے، وہ بھی عالمی مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، ذہنی صحت اور معاشی انصاف پر گفتگو کر سکتا ہے۔ یہ ایک نئی قسم کی شعوری دنیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر نوجوان تبدیلی کا علمبردار نہیں ہوتا۔ ہر نسل میں مختلف سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ مگر ہر نوجوان کے اندر ایک سوال ضرور موجود ہوتا ہے: میرا مستقبل کیسا ہوگا؟ میرے معاشرے کی سمت کیا ہے؟ اور میری آواز کی اہمیت کتنی ہے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نوجوان خاموش کیوں ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کی آواز سننے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم انہیں ایسے ادارے دے رہے ہیں جہاں وہ سوال کر سکیں؟ کیا ہم انہیں اختلافِ رائے کا حق دے رہے ہیں؟ کیونکہ جو معاشرے نوجوانوں کے سوالات کو دباتے ہیں، وہ آخرکار اپنی ترقی کے راستے محدود کر لیتے ہیں۔
نئی نسل کو صرف تنقید کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اسے موقع، اعتماد اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اگر علم، آزادیِ اظہار اور مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع ملیں تو یہی نسل مسائل کی شکایت کرنے کے بجائے حل تلاش کرنے والی قوت بن سکتی ہے۔
تاریخ میں کبھی بھی بڑی تبدیلیاں صرف طاقتور لوگوں نے پیدا نہیں کیں۔ اکثر نئے خیالات ان لوگوں سے آئے جنہیں ابتدا میں کمزور سمجھا گیا۔ نوجوانوں کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا تاریخ کی سب سے بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک ہے۔
ممکن ہے آج بہت سے نوجوان خاموش دکھائی دیتے ہوں، مگر ان کے اندر سوال زندہ ہیں۔ اور جب سوال زندہ رہیں تو معاشرے مکمل طور پر ساکت نہیں ہوتے۔ وقت آنے پر یہی سوال نئے راستے بناتے ہیں، نئی سوچ پیدا کرتے ہیں اور تاریخ کے دھارے کو نئی سمت دیتے ہیں۔
کیونکہ نوجوان صرف مستقبل نہیں ہوتے، وہ حال کی سب سے طاقتور آواز بھی ہوتے ہیں۔









