غزہ جنگ ختم ہونے کے قریب؟ 15 نکاتی روڈ میپ نے دنیا کی نظریں اپنی جانب موڑ لیں

اسلام آباد: پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد پیش کیے گئے 15 نکاتی امن روڈ میپ کو خطے میں امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق اپنے وعدوں پر مکمل اور شفاف انداز میں عمل کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان نے اس امن عمل میں امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کوششوں کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر مؤثر عملدرآمد ہی خطے میں پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں قائم غزہ امن بورڈ نے جنگ بندی کے بعد کے مرحلے کے لیے 15 نکاتی روڈ میپ جاری کیا ہے۔ منصوبے میں مرحلہ وار جنگی سرگرمیوں کا خاتمہ، حماس کی تدریجی غیر مسلحی، اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور غزہ کے انتظامی امور کے لیے فلسطینی نیشنل کمیٹی کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔
منصوبے کے مطابق فریقین کو 14 روز کے اندر اس کی منظوری دینا ہوگی، جبکہ ہر اگلے مرحلے کا آغاز بین الاقوامی نگرانی اور سابقہ مرحلے کی تصدیق سے مشروط ہوگا۔ اس دوران سیکیورٹی، انسانی امداد اور پولیس کی تربیت کے لیے ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس بھی تعینات کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے اصولی طور پر اس منصوبے سے اتفاق کیا ہے، تاہم اس نے اسے اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے، غزہ سے انخلا اور دیگر شرائط سے مشروط قرار دیا ہے۔
ادھر امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے پر دونوں فریقوں سے عملدرآمد یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند ماہ قبل ایسے معاہدے تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا تھا۔
دوسری جانب اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اس منصوبے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج حماس کی مکمل غیر مسلحی سے پہلے موجودہ پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے تاحال اس معاملے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔









