امریکا نے ایران پر حملے کیوں روکے؟ اہم وجوہات سامنے آگئیں

0
36
امریکا نے ایران پر حملے کیوں روکے؟ اہم وجوہات سامنے آگئیں

واشنگٹن: ایران پر تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والے امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں کے بعد امریکا نے اپنے حملے روکنے کا اعلان کیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی۔

ماہرین کے مطابق امریکی فیصلے کے پیچھے ایک نہیں بلکہ کئی عوامل کارفرما تھے، جن میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، عالمی معیشت پر دباؤ، خلیجی ممالک کے تحفظات، ایران کی جوابی کارروائیاں، سفارتی رابطے اور دفاعی وسائل سے متعلق خدشات شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملے روکنے کے اعلان کے بعد ایران نے بھی خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اہداف پر اپنی جوابی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں میں کمی آئی ہے، تاہم آبنائے ہرمز، باب المندب، لبنان اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے بنیادی تنازعات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث موجودہ صورتحال کو مستقل امن کے بجائے عارضی وقفہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی حکمت عملی دفاع اور جوابی کارروائی پر مبنی ہے اور اگر دوبارہ حملے کیے گئے تو مناسب جواب دیا جائے گا۔

دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق مسلسل جنگ دونوں ممالک کے لیے مہنگی ثابت ہو رہی تھی، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھا دیا تھا۔

ادھر مختلف علاقائی ممالک کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

دفاعی حلقوں میں یہ خدشات بھی سامنے آئے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے بعض دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اگرچہ امریکی حکومت نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا انحصار مستقبل کے سفارتی مذاکرات پر ہوگا، کیونکہ بنیادی تنازعات اب بھی حل طلب ہیں اور مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

Leave a reply