سی آئی اے کے ٹھکانوں تک ایرانی ڈرون کیسے پہنچے؟

امریکی حکام نے خلیجی خطے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے منسلک مبینہ مراکز پر ہونے والے ڈرون حملوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایران کو ان کارروائیوں کے لیے روس کی جانب سے معلومات یا جدید ٹیکنالوجی کی مدد حاصل تھی یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال مارچ میں خطے میں سی آئی اے کے دو اہم مقامات کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے سے منسلک ایک خفیہ تنصیب اور مشرقی عراق میں واقع ایک مرکز شامل بتایا جاتا ہے۔
امریکی سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرونز کی درستگی نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض مغربی حکام کا خیال ہے کہ ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز میں روسی تکنیکی تعاون شامل ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق ریاض میں ہونے والے مبینہ حملے میں ایسے ڈرونز استعمال کیے گئے جو جدید نیویگیشن صلاحیت رکھتے تھے۔ امریکی حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا ایران کو روس سے سیٹلائٹ نیویگیشن یا دیگر انٹیلی جنس معلومات ملی تھیں یا یہ حملے کسی اور ذریعے سے ممکن ہوئے۔
امریکی انٹیلی جنس حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان دفاعی تعاون میں حالیہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔ تاہم روس کی جانب سے کسی براہِ راست معاونت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
کریملن ماضی میں ایران کو جدید نیویگیشن نظام کی فراہمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کر چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی، ایرانی، روسی اور سعودی حکام نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
امریکی ادارے اب بھی اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے بیرونی مدد شامل تھی یا نہیں، اور اگر تھی تو اس کا دائرہ کار کتنا تھا۔









