صرف سوچ سے روبوٹ کو کنٹرول کرنے والی نئی چینی ٹیکنالوجی متعارف

0
19
صرف سوچ سے روبوٹ کو کنٹرول کرنے والی نئی چینی ٹیکنالوجی متعارف

شنگھائی: چین میں منعقدہ ورلڈ اے آئی کانفرنس 2026 کے دوران ایک مقامی ٹیکنالوجی کمپنی نے ایسی نئی ٹیکنالوجی پیش کی ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات کی مدد سے روبوٹ کو کنٹرول کر سکتا ہے، وہ بھی بغیر دماغ کی سرجری یا کسی امپلانٹ کے۔
کمپنی کے مطابق اس نظام میں صارف ایک ہلکا ہیڈ سیٹ استعمال کرتا ہے، جو دماغ کی برقی سرگرمی (EEG) کو ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ان سگنلز کا تجزیہ کرکے صارف کے ارادے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی بنیاد پر روبوٹ کو ہدایات دیتا ہے۔
نمائشی تقریب کے دوران ایک روبوٹک بازو نے صرف دماغی اشاروں کی بنیاد پر ایک کپ اٹھا کر اس ٹیکنالوجی کی عملی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہی نظام مستقبل میں روبوٹک بازوؤں، انسانی شکل والے روبوٹس اور روبوٹک کتوں کو بھی چلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا نسبتاً آسان ہے اور نئے صارفین بھی مختصر تربیت کے بعد ذہنی اشاروں کے ذریعے روبوٹ کو کنٹرول کرنا سیکھ سکتے ہیں۔
یہ نظام دماغ میں چپ نصب کرنے والی ٹیکنالوجیز سے مختلف ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کی سرجری کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ تمام دماغی سگنلز بیرونی ہیڈ سیٹ کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں، جس سے یہ طریقہ نسبتاً کم پیچیدہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی افادیت سائنسی آزمائشوں میں ثابت ہو جاتی ہے تو یہ جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لیے مصنوعی اعضا، وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات کو صرف ذہنی اشاروں سے چلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صنعت، تحقیق اور روبوٹکس کے شعبوں میں بھی اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کے امکانات موجود ہیں۔
تاہم کمپنی کے اس دعوے کی کہ یہ دنیا کا پہلا مربوط “برین ٹو روبوٹ” نظام ہے، تاحال آزاد سائنسی اداروں کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی درستگی، کارکردگی اور بڑے پیمانے پر استعمال کی صلاحیت کا حتمی اندازہ مزید آزاد تحقیق اور عملی تجربات کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

Leave a reply