نوجوانوں کا غصہ پھوٹ پڑا: پیپر لیکس کے خلاف دہلی کی سڑکیں بھر گئیں

0
35
نوجوانوں کا غصہ پھوٹ پڑا: پیپر لیکس کے خلاف دہلی کی سڑکیں بھر گئیں

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہزاروں نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات کی گئی۔
مظاہرین کا تعلق ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نامی تحریک سے بتایا جا رہا ہے، جو حالیہ مہینوں میں پیپر لیکس کے معاملے پر سامنے آئی۔ مظاہرین نے تعلیمی وزیر اور حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔
احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں قائم کیں۔ بعض ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کو منتشر کرتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم پولیس نے کسی بھی تشدد کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
مظاہرین کی بڑی تعداد نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوئی، جہاں سے انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب جانے کی کوشش کی۔ پولیس حکام کے مطابق احتجاجی مقام پر گنجائش محدود ہو چکی تھی اور کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے گئے۔
یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب میڈیکل داخلہ امتحان سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں پیپر لیکس کے الزامات سامنے آئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ان کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں اور شفاف امتحانی نظام کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔
احتجاجی طلبہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امتحانات کے نظام میں اصلاحات کی جائیں، پیپر لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور نوجوانوں کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری اور مسابقتی امتحانات سے متعلق شکایات کے باعث حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ یہ احتجاج نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تشویش کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a reply