مولانا فضل الرحمان کا بیان ہنگامہ بن گیا، سیاسی میدان میں طوفان، معافی کا مطالبہ

0
19
مولانا فضل الرحمان کا بیان ہنگامہ بن گیا، سیاسی میدان میں طوفان، معافی کا مطالبہ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ خطاب پر ملک کے سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ قصور میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران ان کے بعض بیانات پر حکومتی شخصیات اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت اور معذرت کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک تجربہ کار سیاست دان اور مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ احتیاط کی توقع کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں کی قربانیوں کو صرف تنخواہ سے جوڑنا مناسب نہیں، کیونکہ جان قربان کرنے کے پیچھے وطن سے وابستگی، نظریات اور ذمہ داری کا جذبہ ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کا احترام قومی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات عوام کے جذبات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے بھی مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے الفاظ کی وضاحت کریں اور متاثرہ خاندانوں کے جذبات کو مدنظر رکھیں۔
دیگر حکومتی رہنماؤں، جن میں طلال چوہدری، حنیف عباسی اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان شامل ہیں، نے بھی بیان پر تنقید کی اور کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق مؤقف کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ہر ادارے کا ایک مخصوص دائرہ اختیار ہوتا ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تنقید کی اور اسی دوران فوجی جوانوں کی قربانیوں سے متعلق ایسا بیان دیا جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔
جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل توجہ صوبوں میں جاری حالات اور مسائل کے حل پر ہونی چاہیے۔

Leave a reply