پنجاب اسمبلی کی تاریخ بدل گئی، پہلی بار پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی قائم

0
16
پنجاب اسمبلی کی تاریخ بدل گئی، پہلی بار پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی قائم

لاہور: پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی کا قیام پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11-سی کے تحت عمل میں لایا گیا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی کا چیئرمین رکن اسمبلی سردار محمد اویس دریشک کو مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں سید علی حیدر گیلانی، شوکت راجا، نورالامین وٹو، چوہدری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی بطور اراکین شامل ہیں۔
جوڈیشل کمیٹی اسمبلی کے استحقاق (پارلیمانی پریولیجز) سے متعلق معاملات کی سماعت اور تحقیقات کی مجاز ہوگی۔ اسپیکر کی جانب سے بھجوائے گئے استحقاقی ریفرنسز پر کارروائی، شواہد اور دستاویزات طلب کرنا، متعلقہ افراد کا مؤقف سننا اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنا بھی کمیٹی کے اختیارات میں شامل ہے۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کمیٹی اپنی رپورٹ اور سفارشات اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر کمیٹی کسی دوسرے رکن اسمبلی کو بھی کارروائی میں شریک کر سکتی ہے، جبکہ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کی کارروائی میں معاونت کریں گے۔
قانون کے مطابق کمیٹی صرف اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی۔ فوجداری اور دیوانی مقدمات اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہیں۔ استحقاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں کمیٹی قانون کے مطابق سزا یا جرمانہ تجویز یا عائد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی پی او قصور کا معاملہ اس نئی جوڈیشل کمیٹی کے سامنے زیر سماعت آنے والا پہلا کیس ہوگا۔

Leave a reply