مون سون میں انسولین محفوظ رکھنے میں یہ غلطیاں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں

0
6
مون سون میں انسولین محفوظ رکھنے میں یہ غلطیاں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں

مون سون کا موسم جہاں گرمی سے کچھ راحت دیتا ہے، وہیں ذیابیطس کے مریضوں، خاص طور پر انسولین استعمال کرنے والوں کے لیے احتیاط کا تقاضا بھی بڑھا دیتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق زیادہ نمی اور درجہ حرارت میں تبدیلی انسولین کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث خون میں شوگر کو قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

انسولین ایک حساس پروٹین ہارمون ہے، جسے مخصوص درجہ حرارت اور مناسب ماحول میں محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی مریض صرف انسولین کو دھوپ سے بچانے پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ نمی اور درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ بھی اس کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران انسولین محفوظ رکھنے میں چند عام غلطیاں سامنے آتی ہیں۔ ان میں سے ایک کولنگ بیگ یا انسولین والیٹ کو غلط طریقے سے استعمال کرنا ہے۔ اگر ایسے بیگ میں نمی زیادہ جمع ہو جائے تو ٹھنڈک کا نظام متاثر ہو سکتا ہے اور انسولین کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک اور عام غلطی انسولین کو فریج کے دروازے میں رکھنا ہے۔ دروازہ بار بار کھلنے اور بند ہونے کی وجہ سے درجہ حرارت میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسولین کو فریج کی ایسی جگہ رکھنا بہتر ہے جہاں درجہ حرارت زیادہ مستحکم رہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ صرف انسولین کا رنگ یا شکل دیکھ کر اس کے محفوظ ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات انسولین بظاہر ٹھیک نظر آتی ہے، لیکن اس کی تاثیر کم ہو چکی ہوتی ہے، جس سے شوگر لیول بڑھ سکتا ہے۔

اگر دوا اور خوراک کے معمول پر عمل کرنے کے باوجود شوگر کی سطح مسلسل غیر معمولی رہ رہی ہو تو انسولین کی حالت اور ذخیرہ کرنے کے طریقے کا جائزہ لینا چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے نئی انسولین استعمال کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ مون سون کے دوران انسولین کو صاف اور خشک، ہوا بند ڈبے میں محفوظ رکھا جائے، اسے مناسب درجہ حرارت پر رکھا جائے اور استعمال سے پہلے احتیاط سے چیک کیا جائے۔ درست طریقے سے انسولین محفوظ رکھنا ذیابیطس کے بہتر کنٹرول کے لیے انتہائی اہم ہے۔

Leave a reply