ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس: سپریم کورٹ کے فیصلے سے کیا بدلے گا؟

ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس: سپریم کورٹ کے فیصلے سے کیا بدلے گا؟

تحریر:محمد رشید

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے خاتمے کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ جاری کیا ہے جسے محفوظ، باوقار اور مساوی تعلیمی ماحول کے قیام کی سمت میں ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جو تعلیمی ادارہ ہراسانی جیسے رویوں کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے بنیادی تعلیمی مقصد سے انحراف کرتا ہے۔ ایسا ماحول طلبہ اور ملازمین کو یہ تاثر دیتا ہے کہ طاقتور افراد قانون سے بالاتر ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے خاموش رہنا بہتر ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نقصان دہ سوچ ہے۔

یہ فیصلہ گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد میں ایک خاتون استاد کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نہ صرف مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا بلکہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کی روک تھام کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر بھی اہم ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کی جانب سے دی گئی پانچ سالہ سروس ضبط کرنے کی سزا بحال کر دی اور اپیل کو زائد المعیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا صرف ایک فرد کے خلاف زیادتی نہیں بلکہ یہ قانون، اخلاقیات، پیشہ ورانہ اقدار اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے مطابق اس طرح کے واقعات متاثرہ فرد کی ذہنی صحت، پیشہ ورانہ کارکردگی، اعتماد اور عزتِ نفس پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، جبکہ ادارے کا مجموعی ماحول بھی خوف، عدم تحفظ اور بے اعتمادی کا شکار ہو جاتا ہے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہراسانی کی تعریف صرف جسمانی بدسلوکی تک محدود نہیں۔ غیر ضروری ذاتی تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے، نامناسب پیغامات، آوازیں کسنا، اشارے کرنا، بلا اجازت جسمانی رابطے کی کوشش، ملازمت میں ترقی یا دیگر فوائد کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کرنا اور ایسا ماحول پیدا کرنا جس میں کوئی ملازم یا استاد خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، یہ تمام رویے ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے ہر سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کو ہدایت دی ہے کہ وہاں ہراسانی کے خلاف واضح اور مؤثر پالیسی نافذ کی جائے۔ اداروں میں شکایات درج کرانے کا آسان، شفاف اور محفوظ نظام قائم کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کروا سکیں۔ اس مقصد کے لیے ہر ادارے میں ایک فعال انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جو شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور مقررہ وقت میں اپنی سفارشات پیش کرے۔

عدالت نے وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن اور وفاقی و صوبائی محتسب کو فیصلے کی نقول بھیجنے کی بھی ہدایت دی تاکہ اس پر ملک بھر میں مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی وزارتِ تعلیم کو حکم دیا گیا کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطۂ اخلاق نمایاں مقامات پر آویزاں کیا جائے تاکہ اساتذہ، طلبہ اور دیگر ملازمین اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ رہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے تمام مقدمات کے لیے ایک مضبوط قانونی رہنمائی فراہم کرے گا۔ اس سے تعلیمی اداروں پر یہ ذمہ داری مزید واضح ہو گئی ہے کہ وہ محض شکایات وصول کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ ہراسانی کی روک تھام، آگاہی، تربیت اور احتساب کا مؤثر نظام بھی قائم کریں۔

تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر انہی اداروں میں اساتذہ یا طلبہ خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو اسکے اثرات صرف ایک فردتک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری تعلیمی فضامتاثر ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کیے بغیر باوقار اور مساوی تعلیمی ماحول قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اب ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالت کی ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کریں، انکوائری کمیٹیوں کو فعال بنائیں، شکایات کے نظام کو مضبوط کریں، آگاہی مہمات چلائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر استاد، طالب علم اور ملازم خوف سے آزاد، محفوظ اور باوقار ماحول میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے۔

Leave a reply