موت سے پہلے لوگ سب سے زیادہ کیا کہتے ہیں؟ 20 سالہ تجربے نے حیران کن انکشافات کر دیے

0
17
موت سے پہلے لوگ سب سے زیادہ کیا کہتے ہیں؟ 20 سالہ تجربے نے حیران کن انکشافات کر دیے

ہاسپس کیئر برطانیہ سے وابستہ ایک تجربہ کار نرس نے زندگی کے آخری مرحلے سے گزرنیوالے مریضوں کے بارے میں اپنے دو دہائیوں کے مشاہدات شیئر کیے ہیں۔ ان کے مطابق، قدرتی طور پر موت کے قریب پہنچنے والے بہت سے افراد میں کچھ جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں مشترک طور پر دیکھی جاتی ہیں۔
نرس کے مطابق، آخری دنوں میں مریض عموماً پہلے سے زیادہ وقت سونے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اردگرد کے ماحول سے اس کا رابطہ کم ہونے لگتا ہے۔ گفتگو میں کمی، جسمانی کمزوری میں اضافہ اور توانائی کا بتدریج ختم ہونا بھی اس مرحلے کی عام علامات سمجھی جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران اہلِ خانہ اکثر پریشانی اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ طب کے مطابق یہ قدرتی عمل کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ایسے وقت میں مریض کو سکون، محبت اور جذباتی تعاون فراہم کرنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔
نرس کا کہنا ہے کہ متعدد مریض اپنے آخری گھنٹوں یا دنوں میں ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جن میں مرحوم عزیزوں کو دیکھنے، کسی سفر پر جانے یا منزل کے قریب پہنچنے جیسے احساسات شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مشاہدات مختلف افراد میں بارہا سامنے آئے ہیں، اگرچہ ان کی سائنسی تشریح ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے مریض اس مرحلے میں خوف کے بجائے غیر معمولی سکون اور اطمینان کا اظہار کرتے ہیں، تاہم ہر فرد کا تجربہ ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق معاشرے میں موت پر کھل کر گفتگو نہ ہونے کے باعث اس موضوع سے متعلق غلط فہمیاں اور غیر ضروری خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موت انسانی زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے اور اس حقیقت کو سمجھنے سے مریض اور اہلِ خانہ دونوں کے لیے اس مشکل وقت کا سامنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
ماہرہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہاسپس کیئر کا مقصد صرف مریض کی جسمانی نگہداشت نہیں بلکہ اہلِ خانہ کو جذباتی اور ذہنی طور پر بھی اس مرحلے کے لیے تیار کرنا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، زندگی کے آخری مرحلے کی علامات اور تجربات ہر مریض میں مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی ایک تجربے کو تمام افراد پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a reply