نیٹو اجلاس: صدر ٹرمپ کی انقرہ آمد، اردوان سے ملاقات میں دفاعی تعاون اور عالمی امور پر گفتگو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، تجارت، دفاعی تعاون اور خطے کی صورتحال سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر ٹرمپ نے ترک صدر کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ترکیہ کے تعلقات طویل عرصے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے اپنی دفاعی اور علاقائی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی صدر نے نیٹو کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے رکن ممالک کو دفاعی اخراجات میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کرتا ہے اور اتحادی ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مشترکہ ذمہ داریوں میں بھرپور حصہ لیں۔
ملاقات کے دوران ایران، علاقائی سلامتی اور امریکا و ترکیہ کے درمیان فوجی تعاون سمیت مختلف معاملات زیر بحث آئے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تعاون مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
نیٹو سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما دفاعی حکمت عملی، یورپی سلامتی، یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔
اجلاس سے قبل دفاعی اخراجات بڑھانے کے معاملے پر امریکا اور بعض یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تمام رکن ممالک کو دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ لینا چاہیے، جبکہ یورپی ممالک اپنی جانب سے کیے گئے اقدامات کو نمایاں کر رہے ہیں۔
انقرہ اجلاس میں نیٹو کے رکن ممالک کے علاوہ بعض شراکت دار ممالک کے نمائندے بھی شریک ہیں، جبکہ عالمی سلامتی سے متعلق اہم فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔









