ترکیہ میں نیٹو اجلاس: دفاعی اخراجات، یوکرین جنگ اور عالمی سیاست پر اہم بات چیت

نیٹو کے رہنماؤں کا دو روزہ اجلاس ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں جاری ہے، جس میں دفاعی اخراجات، عالمی سیکیورٹی صورتحال اور اتحاد کے مستقبل پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا کی جانب سے نیٹو کے اتحادی ممالک پر دفاعی بجٹ بڑھانے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیٹو ممالک نے گزشتہ برس دفاعی اخراجات میں اضافے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت 2035 تک مجموعی قومی آمدنی کا پانچ فیصد دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں پر خرچ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ اضافی بجٹ کو عملی دفاعی صلاحیت میں کیسے تبدیل کیا جائے۔
اجلاس میں نیٹو کے 32 رکن ممالک کے رہنما شریک ہیں، جبکہ بعض غیر رکن ممالک کے نمائندے بھی مدعو کیے گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ بھی اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور خلیجی ممالک کے نمائندے بھی عالمی سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق یورپی ممالک کی جانب سے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کے اعلانات کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا کے تحفظات کو کم کرنا بھی ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ اخراجات کا نتیجہ فوری طور پر سامنے نہیں آئے گا اور دفاعی منصوبوں کو مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اجلاس میں یوکرین جنگ بھی اہم موضوع ہے۔ صدر زیلنسکی امریکی صدر سے ملاقات میں یوکرین کے لیے مزید فضائی دفاعی نظام اور فوجی تعاون پر بات کریں گے۔ یوکرین کا مؤقف ہے کہ جدید دفاعی نظام روسی حملوں کے نقصانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب نیٹو کے اندر امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان دفاعی ذمہ داریوں اور اخراجات کے حوالے سے اختلافات بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق انقرہ اجلاس کا بڑا مقصد اتحادی ممالک کے درمیان رابطہ برقرار رکھنا اور دنیا کو اتحاد کا پیغام دینا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں اجلاس کے فوری عملی نتائج محدود ہو سکتے ہیں، لیکن یہ عالمی سطح پر نیٹو کی سیاسی اہمیت اور مشترکہ حکمت عملی کے اظہار کا ایک اہم موقع ہے۔








