
بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں پولیس پر حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا۔ حکام کے مطابق کارروائی میں 15 حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ 9 پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ آپریشن میں ایف سی، بلوچستان پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے مشترکہ حصہ لیا۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد علاقے کو محفوظ بنانا اور لاپتہ اہلکاروں کو تلاش کرنا تھا۔
حکام کے مطابق شہید ہونے والوں میں مختلف پولیس افسران اور اہلکار شامل ہیں، جبکہ ان کی میتیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ضلعی اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار محفوظ حالت میں واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور اہلکار، کانسٹیبل رضوان، کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کی بحالی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ مانگی کے علاقے میں گزشتہ رات سے سیکیورٹی اہلکاروں اور مسلح حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا، جس کے بعد مشترکہ آپریشن کے ذریعے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔









