دنیا کا انوکھا آتش فشاں جو لاوے کے ساتھ سونے کے کرسٹل اگلتا ہے

0
4
دنیا کا انوکھا آتش فشاں جو لاوے کے ساتھ سونے کے کرسٹل اگلتا ہے

انٹارکٹیکا کے برفانی خطے میں موجود ماؤنٹ ایریبس کو دنیا کے منفرد اور فعال آتش فشاؤں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں مسلسل لاوے کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ایک غیر معمولی سائنسی دلچسپی بھی پائی جاتی ہے۔
سائنسی مطالعات کے مطابق اس آتش فشاں سے صرف گیسیں اور راکھ ہی خارج نہیں ہوتیں بلکہ انتہائی باریک پیمانے پر سونے کے ذرات بھی فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ 1991 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ آتش فشاں روزانہ تقریباً 80 ملی گرام کے قریب نہایت باریک سونے کے ذرات خارج کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب آتش فشاں سے نکلنے والی گرم گیسیں مختلف کیمیائی عناصر کے ساتھ اوپر اٹھتی ہیں۔ فضا میں پہنچ کر جب یہ گیسیں ٹھنڈی ہوتی ہیں تو ان میں موجود دھاتی ذرات الگ ہو کر انتہائی چھوٹے کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
تاہم یہ عمل ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ سونا براہِ راست گیسوں میں موجود کیمیائی ردِعمل کے نتیجے میں بنتا ہے، جبکہ ایک اور نظریہ یہ ہے کہ یہ ذرات لاوا کی سطح کے قریب بنتے ہیں اور بعد میں فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
اس غیر معمولی رجحان کی وجہ سے Mount Erebus کو آج بھی ایک سائنسی معمہ سمجھا جاتا ہے، جس پر تحقیق جاری ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ آتش فشاں واقعی سونے کے ذرات کیسے پیدا کرتا ہے۔

Leave a reply