وینزویلا میں آسمان کا سرخ رنگ — سائنسی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں

وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں منگل کی شام اس وقت شہری حیرت زدہ رہ گئے جب آسمان کا رنگ اچانک سرخ اور نارنجی دکھائی دینے لگا۔ متعدد افراد نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کیں جن میں بادلوں کو غیر معمولی طور پر سرخی مائل اور چمکدار دیکھا جا سکتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق نچلے بادل بھی گہرے سرخ اور نارنجی رنگ میں تبدیل ہو گئے، جس سے شہر میں ایک غیر معمولی اور پراسرار ماحول پیدا ہوا۔ یہ مناظر چند ہی منٹوں میں آن لائن وائرل ہو گئے اور مختلف قسم کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس منظر کو قدرتی آفت یا غیر معمولی واقعے سے جوڑتے ہوئے جذباتی اور قیاس پر مبنی تبصرے کیے، جبکہ دیگر نے اسے روحانی یا علامتی معنی دینے کی کوشش کی۔
تاہم ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ ایک قدرتی مظہر ہے جسے عام طور پر “کاندیلازو” یا ریلے اسکیٹرنگ (Rayleigh Scattering) سے جوڑا جاتا ہے۔ اس عمل میں فضا میں موجود باریک گرد و غبار اور ذرات سورج کی روشنی کو اس طرح بکھیر دیتے ہیں کہ نیلی روشنی کم اور سرخ و نارنجی رنگ زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر اکثر صحرائی دھول یا فضائی ذرات کے مخصوص موسمی حالات میں سامنے آتے ہیں، اور یہ کسی غیر معمولی یا غیر سائنسی واقعے کی علامت نہیں ہوتے۔
اگرچہ سائنسی وضاحت موجود ہے، لیکن شہر میں اس وقت موجود حالات اور پس منظر کے باعث کئی افراد نے اس منظر کو جذباتی اور علامتی انداز میں دیکھا، جس سے مختلف افواہیں اور تشریحات جنم لیتی رہیں۔
حکام اور ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ ایسے مناظر کو سائنسی تناظر میں دیکھا جائے اور غیر مصدقہ اطلاعات پر انحصار نہ کیا جائے۔









