زلزلے اور سونامی: قدیم عقائد سے جدید سائنس تک

دنیا بھر میں آنے والی قدرتی آفات میں زلزلے سب سے زیادہ تباہ کن سمجھے جاتے ہیں۔ انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں لوگوں نے زلزلوں کی وجوہات کو اپنی سمجھ اور عقائد کے مطابق بیان کیا۔ بعض تہذیبوں کا خیال تھا کہ زمین کسی عظیم جانور کے کندھوں یا سینگوں پر قائم ہے اور اس کی حرکت سے زمین لرزنے لگتی ہے، جبکہ کچھ لوگ زلزلوں کو خدائی تنبیہ قرار دیتے تھے۔
قدیم یونانی مفکرین نے زلزلوں کی نسبتاً سائنسی تشریح پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ زمین کے اندر بند گرم ہوا جب باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زمین ہلنے لگتی ہے۔ تاہم جدید سائنس نے زلزلوں کے حقیقی اسباب کو زیادہ واضح انداز میں بیان کیا ہے۔
ماہرین ارضیات کے مطابق زلزلوں کی بنیادی وجہ زمین کی سطح کے نیچے موجود بڑی چٹانی پلیٹوں، یعنی ٹیکٹونک پلیٹس، کی حرکت ہے۔ یہ پلیٹیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب آپس میں ٹکراتی، ایک دوسرے کے نیچے سرکتی یا اچانک ٹوٹتی ہیں تو بڑی مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے۔ یہی توانائی زلزلے کی لہروں کی صورت میں زمین کے اندر اور سطح پر پھیلتی ہے۔
زمین کے اندر پیدا ہونے والی زلزلائی لہریں مختلف اقسام کی ہوتی ہیں۔ کچھ لہریں زمین کے اندر سفر کرتی ہیں جبکہ بعض سطح پر حرکت کرتی ہیں۔ پرائمری (P) لہریں سب سے پہلے پہنچتی ہیں اور ٹھوس و مائع دونوں مادوں سے گزر سکتی ہیں، جبکہ سیکنڈری (S) لہریں صرف ٹھوس مادوں میں سفر کرتی ہیں۔ ان لہروں کی شدت اور رفتار زلزلے کے اثرات کا تعین کرتی ہے۔
زلزلے آتش فشانی سرگرمیوں کے نتیجے میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ جب زیرِ زمین لاوا اور گرم مادہ شدید دباؤ کے ساتھ حرکت کرتا ہے تو زمین کی تہوں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے، جو بعض اوقات زلزلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اگر طاقتور زلزلہ سمندر کی تہہ میں وقوع پذیر ہو تو پانی کی بڑی مقدار اچانک حرکت میں آ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سونامی پیدا ہو سکتا ہے۔ سونامی کی لہریں سمندر میں انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرتی ہیں اور ساحلی علاقوں سے ٹکرا کر وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہیں۔
تاریخ کے مہلک ترین سونامیوں میں 2004 کا بحرِ ہند سونامی شامل ہے، جو انڈونیشیا کے قریب آنے والے شدید زیرِ سمندر زلزلے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس آفت نے متعدد ممالک کے ساحلی علاقوں کو متاثر کیا اور لاکھوں افراد اس کے اثرات سے متاثر ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدید آلات زلزلوں کی شدت، مرکز اور بعد کے جھٹکوں کی معلومات فراہم کر سکتے ہیں، لیکن اب تک زلزلے کی درست پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ اسی لیے محفوظ تعمیرات، مؤثر نگرانی کے نظام اور عوامی آگاہی کو زلزلوں سے ہونے والے نقصانات میں کمی کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔









