
اسلام آباد: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ایک حالیہ بیان پر بھارت کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا ہے۔ صدر زرداری نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور تاریخی مذہبی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
صدر پاکستان کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت میں بعض تاریخی مسلم مذہبی مقامات کو لاحق خطرات اور ان سے متعلق رپورٹس باعثِ تشویش ہیں۔ بیان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
صدر زرداری نے اپنے پیغام میں وارانسی میں واقع ایک تاریخی مسجد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی اور ثقافتی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
دوسری جانب بھارتی وزارتِ خارجہ نے صدر زرداری کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کے اندرونی معاملات میں تبصرہ قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کو بھارت کے داخلی امور پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔
یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بحث کا موضوع بن گیا ہے، جبکہ مختلف حلقے اس پر اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔









