
فیصل آباد کے محققین نے ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ سے نمٹنے کے لیے ایک جدید بائیو آرٹیفیشل “لیکوڈ ٹری” تیار کیا ہے، جو فضائی آلودگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک بڑا لیکوڈ ٹری تقریباً 50 روایتی درختوں کے برابر ہوا کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ منصوبہ محکمہ تحفظِ ماحولیات پنجاب اور ایک نجی تحقیقی ادارے کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ لیکوڈ ٹری دراصل شیشے کے ایک خصوصی مرتبان پر مشتمل نظام ہے، جس میں قدرتی ضیائی تالیف (فوٹوسنتھیسز) کے عمل کو تیز رفتار انداز میں انجام دیا جاتا ہے۔
اس نظام میں نصب جدید پمپس اردگرد کی آلودہ ہوا اور اسموگ کے مضر ذرات کو کھینچ کر پانی سے بھرے مرتبان میں منتقل کرتے ہیں۔ مرتبان کے اندر موجود مائیکرو الجی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر نقصان دہ گیسوں کو جذب کر کے اپنی نشوونما کے لیے استعمال کرتی ہے، جبکہ اس کے بدلے میں آکسیجن خارج کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک لیکوڈ ٹری کی تیاری میں تقریباً 15 سے 20 دن لگتے ہیں۔ چھوٹے سائز کا یونٹ تقریباً 25 درختوں اور بڑا یونٹ 50 درختوں کے برابر ماحولیاتی صفائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مسلسل روشنی کی فراہمی سے اس نظام کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
تجرباتی مراحل میں مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت پنجاب اس ٹیکنالوجی کو فضائی آلودگی اور اسموگ میں کمی کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات پنجاب نے بھی کامیاب تجربات کے بعد اس منصوبے کو منظوری کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے شہروں میں مؤثر انداز میں نصب کی جائے تو فضائی معیار بہتر بنانے اور شہری علاقوں میں آلودگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔









