سائنس دانوں نے طاعون کی قدیم ترین وبا کے شواہد دریافت کر لیے

ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور جینیات دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ طاعون کی اب تک معلوم ہونے والی سب سے قدیم وبا تقریباً 5,500 سال قبل سائبیریا میں جھیل بائیکال کے گرد و نواح میں پھیلی تھی۔ نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس بیماری نے خاص طور پر بچوں اور کم عمر افراد کو شدید متاثر کیا تھا۔
تحقیق کے دوران جھیل بائیکال کے قریب واقع چار قدیم قبرستانوں سے ملنے والی انسانی باقیات کا جینیاتی تجزیہ کیا گیا۔ 46 افراد کی باقیات میں سے 18 میں یرسینیا پیسٹس نامی جراثیم کے آثار ملے، جو طاعون کی بیماری کا بنیادی سبب سمجھا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ دریافت طاعون کے سب سے قدیم معلوم شواہد میں شمار ہوتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس دور میں علاقے کے لوگ شکار اور خوراک جمع کرنے پر انحصار کرتے تھے۔ ان کی خوراک میں مختلف جنگلی جانور، مچھلیاں اور مارموٹ شامل تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مارموٹ اس جراثیم کے قدرتی میزبان تھے اور ممکنہ طور پر انہی کے ذریعے بیماری انسانوں تک پہنچی۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ دریافت اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے کہ مہلک طاعون صرف بڑی زرعی آبادیوں اور گنجان بستیوں میں ہی پھیل سکتی تھی۔ جھیل بائیکال کے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے اور دور دراز شکاری گروہ بھی ایسی تباہ کن وبا کا شکار ہو سکتے تھے۔
محققین نے متاثرہ افراد کے دانتوں سے حاصل شدہ جینیاتی مواد کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس دور کے جراثیم ارتقائی اعتبار سے ایک درمیانی مرحلے میں تھے۔ اگرچہ ان میں بعد کی عالمی وباؤں جیسی تمام خصوصیات موجود نہیں تھیں، تاہم وہ شدید بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
تحقیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ متاثرہ افراد میں بچوں کی تعداد نمایاں تھی۔ بعض قبروں میں بہن بھائیوں یا خاندان کے دیگر افراد کو ایک ساتھ دفن کیا گیا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وبا نے ایک ہی وقت میں کئی خاندانوں کو متاثر کیا۔
ماہرین کے مطابق بیماری ممکنہ طور پر متاثرہ جانوروں کے شکار، ان کے گوشت کے استعمال یا قریبی انسانی رابطوں کے ذریعے پھیلی ہوگی۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وبا نے مقامی آبادی پر گہرے اثرات مرتب کیے اور متعدد جانیں ضائع ہوئیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے “نیچر” میں شائع ہوئی ہے اور ماہرین کے خیال میں اس سے انسانی تاریخ میں وبائی امراض کی ابتدا اور ان کے ارتقائی سفر کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔








