
ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول دماغی افعال، یادداشت یا ذہنی کارکردگی میں واضح بہتری پیدا نہیں کرتے۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ ان سپلیمنٹس کے استعمال سے جسم میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی سطح بڑھ جاتی ہے، لیکن اس کا دماغی کارکردگی پر نمایاں اثر نظر نہیں آتا۔
یہ مطالعہ 55 سے 80 سال کی عمر کے 365 ایسے افراد پر کیا گیا جو ڈیمینشیا سے محفوظ تھے مگر ان میں بعض خطرے کے عوامل موجود تھے، جیسے موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول یا غیر فعال طرزِ زندگی۔ ان افراد کے جسم میں پہلے سے اومیگا 3 کی سطح کم تھی۔
شرکاء کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو دو سال تک روزانہ مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو پلیسبو دیا گیا۔ دونوں گروپس کو وٹامن بی کمپلیکس بھی فراہم کیا گیا۔
تحقیق کے دوران دماغی اسکینز، خون کے ٹیسٹ اور مختلف علمی (cognitive) ٹیسٹس کیے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں گروپس کے درمیان دماغی کارکردگی یا یادداشت میں کوئی خاص فرق سامنے نہیں آیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس دماغی صحت کے لیے اتنے مؤثر نہیں جتنے عام طور پر سمجھا جاتا ہے، اور انہیں “کم مؤثر اوزار” قرار دیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دماغی صحت بہتر رکھنے کے لیے سپلیمنٹس کے بجائے متوازن غذا، اومیگا 3 سے بھرپور قدرتی غذائیں جیسے مچھلی، گریاں اور بیج، باقاعدہ ورزش، اچھی نیند اور ذہنی دباؤ میں کمی زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔









